خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد 11 328 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سوداحمد فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء بمطابق 07 راحسان 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أنَّهُمْ مُّلْقُوا رَبّهِمُ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔(البقره:46-47) ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو اور یقیناً یہ عاجزی کرنے والوں کے سوا سب پر بوجھل ہے۔یعنی وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے جس بنیادی بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس آیت میں توجہ دلائی ہے اور یہ قرآن کریم میں اور جگہوں پر بھی ہے وہ عاجزی اور انکساری ہے۔یعنی قرآنِ کریم کے تمام احکامات، تمام اوامر ونواہی جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں ، اُن کی بنیاد عاجزی اور انکساری ہے۔یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا عاجزی اور انکساری کی طرف لے جاتا ہے۔ایک حقیقی مؤمن اگر احکامات پر عمل کر رہا ہے تو یقیناً اُس میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعا ( بنی اسرائیل : 110 ) کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ” خدا تعالیٰ کا کلام اُن میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے۔“ (ماخوذ از براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 578)