خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد 11 321 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013ء خدا کی طرف سے انبیاء آئے۔سچی تعلیمات لے کر آئے۔تمام نبیوں پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی تعلیمات بدل گئیں اور یہی حال مسلمانوں کا بھی ہوا کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم تو اپنی اصل حالت میں موجود رہا لیکن قرآنِ کریم پر عمل چھوڑ دیا۔اس کو بھول گئے۔اور اسی وجہ سے پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔پھر دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے ایک حوالے سے انہوں نے بات کی کہ اس کی وجہ سے جو امریکن عوام ہیں وہ خاص طور پر اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں اور اسلام کے خلاف کافی نفرت ہے۔تو اُن کو میں نے بتایا کہ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے بہر حال ایک وقت چاہئے۔جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ اگر یہ نسل نہیں تو اگلی نسل تک ضرور اسلام کی حقیقی تصویر پہنچ جائے گی اور وہ اس کو قبول کریں گے۔عمومی طور پر یہ بھی میں نے انہیں کہا کہ لوگ مذہب سے بیزار ہیں اور لاتعلق ہیں۔چاہے وہ عیسائیت ہے یا کوئی اور مذہب ہے بلکہ خدا پر بھی یقین نہیں رکھتے اور دہر یہ ہوتے جارہے ہیں۔اور ایک وقت آئے گا کہ جب وہ پھر ردعمل کے طور پر خدا پر یقین کریں گے اور مذہب کی طرف واپس آئیں گے۔اور جب وہ مذہب کی طرف واپس آئیں گے تو اُس وقت ہم احمدی مسلمان ہیں جو اس خلا کو پر کرنے والے ہوں گے۔تو اُسی وقت ان کے سامنے سچی تعلیمات آئیں گی۔بہر حال یہ ساری باتیں وہ ریکارڈ بھی کرتی رہیں اور نوٹ بھی کرتی رہیں اور پھر بعد میں انہوں نے بڑا اچھا لکھا بھی۔اسی طرح Wall Street Journal ہے۔وہ دنیا کا مشہور اخبار ہے اور بڑے اونچے طبقے میں زیادہ پڑھا جاتا ہے بلکہ امریکہ سے باہر بھی بڑے وسیع علاقے میں خاص طور پر چین وغیرہ میں بھی جاتا ہے۔اس کی بڑی سرکولیشن ہے۔تو یہاں بھی انہوں نے اسی طرح کے سوال کئے تھے۔کچھ تو مشترک سوال تھے۔اُن کے جواب دینے کی تو ضرورت نہیں۔ایک انہوں نے مجھے یہ کہا کہ آپ کیلیفورنیا کیوں آئے ہیں؟ میں نے اس سے کہا کہ ساری دنیا ہماری ہے اور ہم نے ہر جگہ جانا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔باقی یہاں ہماری جماعت بھی ہے میں اُن کو بھی ملنے آیا ہوں۔پھر ان لوگوں کے دماغوں میں یہ ہوتا ہے کہ شاید ہم بھی سیاسی لیڈروں کی طرح یا جس طرح کہ لوگ عام طور پر امریکہ بھیک مانگنے جاتے ہیں، یا کچھ لینے جاتے ہیں ، مدد کے لئے جاتے ہیں، میں بھی اسی لئے آیا ہوں۔کہتے ہیں یہاں امریکہ کے سیاسی لیڈروں سے آپ ملیں گے تو آپ ان سے کیا چاہتے ہیں، آپ کا ایجنڈا کیا ہے؟ اس پر میں نے اُسے کہا کہ میں ان سے اپنے لئے نہ کچھ لینے آیا ہوں نہ اپنی جماعت