خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد 11 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء بعد جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تب وہ میری خواب پوری ہوئی اور وہ بزرگ جو خضر علیہ السلام کی شکل میں خواب میں مجھے نظر آئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی تھے۔الحمدللہ کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔واقعی حضور اس زمانے کے نبی ہی تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 6 صفحہ 13 تا 15 - از روایات حضرت میاں جان محمد صاحب) حضرت مستری دین محمد صاحب فرماتے ہیں کہ شام کو میرے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ جن لوگوں نے پہلے بیعت کر لی، اُن کے نام رجسٹر پر درج ہیں۔میرا نام نہیں۔رات کو مجھے خواب آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہیں۔ہاتھ میں قلم ہے۔دائیں ران پر رجسٹر ہے اور حضور نے دریافت کیا کہ آپ کا کیا نام اور پیشہ ہے۔میں نے عرض کیا کہ مستری دین محمد ، پیشہ لوہار۔کہتے ہیں ظہر کے وقت میں نے حضور کو یہ خواب سنائی۔حضور نے فرمایا کہ آپ کا نام لکھا گیا ہے۔اُس وقت کہتے ہیں مولوی عبد الکریم صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی تشریف رکھتے تھے۔مولوی محمد علی بھی تھے۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ میرا نام بھی کہیں نہیں لکھا ہوا۔جس پر حضور نے کچھ جواب نہ دیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 6 صفحہ 56- از روایات حضرت مستری دین محمد صاحب) حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ 1904ء میں مجھے خواب کے اندر ایک کھیت دکھلایا گیا جس کے گردا گرد بالشت بالشت بھر فاصلے پر موٹے موٹے مضبوط درختوں کی باڑ تھی۔صرف کھیت کے اندر جانے کے لئے ایک ہی راستہ تھا اور اسی کھیت میں نہایت ہی سبز لہلہاتی ہوئی گندم کی کھیتی تھی۔کھیت سے باہر ایک بیل تھا جو درختوں کے بیچوں بیچ سے اس سبزے کو دیکھ کر اس کے حصول کے لئے ( یعنی کھانے کے لئے بیل ) وہاں کھڑا تھا۔اس سبزے کو کھانے کے لئے درختوں کے درمیان سے، جو درمیانی فاصلہ ہوتا ہے اس سے اپنا منہ ڈال کے اُس فصل کو کھانے کی کوشش کرتا تھا مگر ہر سوراخ سے نا کامیاب رہتا تھا اور اندر جانے کا جو دروازہ تھا اُس میں وہ داخل نہیں ہوتا تھا۔کہتے ہیں خواب میں یہ نظارہ دیکھ کر تفہیم ہوئی کہ دیکھو جس طرح یہ بیل بغیر دروازہ تلاش کئے اپنی مراد کو حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح خدا کے ملنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بمنزلہ دروازے کے ہیں۔جب تک کوئی بشر اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا وہ خدا کو نہیں پاسکے گا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اس زمانے کا امام اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقررفرمایا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 6 صفحہ 129 تا 130 - از روایات حضرت امیر خان صاحب)