خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 25

خطبات مسرور جلد 11 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء قصبہ ہیلاں میں گیا ہوں اور ہم سب مل کر بمع والد صاحب عید گاہ میں نماز پڑھنے کے لئے جار ہے ہیں۔مگر ہمارے گاؤں کی عید گاہ گاؤں سے مغرب کی طرف ہے اور خواب میں جو مجھے عید گاہ کا نظارہ دکھایا گیا وہ مشرق کی طرف تھا۔کہتے ہیں چنانچہ ہم سب مشرق کی طرف روانہ ہوئے اور نماز پڑھ کر جب واپس گھر آرہے تھے تو راستے میں ایک ریت کا ٹیلہ تھا جس پر ایک چورس پتھر جو بہت خوبصورت تھا ، میں اس پر بیٹھ گیا اور میں نے چاہا کہ اس کو ایک طرف ہٹاؤں لیکن وہ چونکہ وزنی تھا، پہلی دفعہ وہ مجھ سے ہٹ نہ سکا۔پھر اللہ کا نام لے کر اور بسم اللہ پڑھ کر جب میں نے زور لگا یا تو وہ پتھر ایک طرف ہو گیا۔نیچے اس کے ایک دروازہ نکل آیا جو بند تھا۔میں نے دروازہ کھولا ، آگے ایک ڈیوڑھی نظر آئی۔چنانچہ میں ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔آگے کیا دیکھتا ہوں کہ تین چار پاپوش ( جوتیاں ہیں) جو بہت عمدہ اور خوبصورت ہیں۔میں نے بھی اپنی جوتی وہاں اُتار دی۔میری جوتی جو نئی تھی اُن کے ساتھ مل گئی۔پھر میں اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بارہ دری بہت خوبصورت بنی ہوئی ہے اور دولڑ کے نہایت خوبصورت قرآن مجید کی تلاوت کر رہے ہیں۔جب میں اُن کے پاس گیا تو ان بزرگوں نے میرا نام بلا کر کہا کہ ہم تمہاری بہت انتظار کر رہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ میں بھی آنے کو تیار تھا لیکن کام کی وجہ سے فرصت نہیں مل سکی۔اب فرصت ملی ہے ، اب حاضر خدمت ہو گیا ہوں۔پھر میں دوسرے کمرے کی طرف ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ سبز لباس پہنے کرسی پر بیٹھے ہیں اور سامنے میز پر ایک ریل پر حمائل شریف رکھ کر تلاوت کر رہے ہیں۔اور اُن کا لباس سبز ہے۔جب میں اُن کے سامنے ہوا تو انہوں نے میرا نام بلا کر کہا کہ ہم تمہارا بہت انتظار کر رہے ہیں۔اس بزرگ نے مجھے پیار سے اپنی بغل میں لے لیا اور پوچھنے لگے کہ تم نے قرآنِ مجید پڑھا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں نے سبقاً سات سپارے پڑھے ہوئے ہیں۔باقی ویسے ہی خود بخود میں پڑھ لیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے قرآن مجید کھولا اور مجھ کو کہنے لگے کہ سناؤ۔اب جب قرآن مجید کھولا گیا تو پہلی آیت جو میری نظر میں آئی ، وہ تِلْكَ الرُّسُلُ تھی اور ان بزرگ کی زبان پر بھی تِلكَ الرُّسُلُ ہی تھا۔یعنی یہ وہ رسول ہیں۔اتنے میں وہ بزرگ کہنے لگے کہ اب میں جاتا ہوں۔چنانچہ وہ میری آنکھوں سے غائب ہو گئے اور میں حیران ہو گیا کہ خدا جانے یہ کون بزرگ تھے۔پھر مجھے غیب سے یہ معلوم ہوا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ بزرگ خضر علیہ السلام ہیں اور لڑکے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ ہیں۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔مگر میں پھر دو تین دن اس خواب کے باعث پریشان ہی رہا۔جس کے آگے بات کی، کسی نے جواب نہ دیا۔( جسے پوچھتا تھا کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔) اس کے بعد یعنی سات آٹھ سال کے