خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 245

خطبات مسرور جلد 11 245 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء ہزاروں انسانوں کو دھوپ سے بچا سکتے تھے۔تب اُس قوم کی اُس فیاض نے دعوت کی جو دھوپ میں جل رہی تھی اور کوئی سایہ نہ تھا اور نہ کوئی پھل تھا اور نہ پانی تھا تا وہ سایہ میں بیٹھیں اور پھل کھاویں اور پانی پئیں۔لیکن اس بد بخت قوم نے اس دعوت کو ر ڈ کیا اور اُس دھوپ میں شدت گرمی اور پیاس اور بھوک سے مر گئے۔اس لئے خدا فرماتا ہے کہ ان کی جگہ میں دوسری قوم کو لاؤں گا جو ان درختوں کے ٹھنڈے سایہ میں بیٹھے گی اور ان پھلوں کو کھائے گی اور اس خوشگوار پانی کو پیئے گی۔خدا نے مثال کے طور پر قرآن شریف میں خوب فرمایا کہ ذوالقرنین نے ایک قوم کو دھوپ میں جلتے ہوئے پایا اور ان میں اور آفتاب میں کوئی اوٹ نہ تھی اور اس قوم نے ذوالقرنین سے کوئی مدد نہ چاہی۔اس لئے وہ اُسی بلا میں مبتلا رہی۔لیکن ذوالقرنین کو ایک دوسری قوم ملی جنہوں نے ذوالقرنین سے دشمن سے بچنے کے لئے مدد چاہی۔سو ایک دیوار اُن کے لئے بنائی گئی اس لئے وہ دشمن کی دست برد سے بچ گئے۔سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی آئندہ پیشگوئی کے مطابق وہ ذوالقرنین میں ہوں جس نے ہر ایک قوم کی صدی کو پایا۔اور دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں سے مجھے قبول نہیں کیا۔اور کیچڑ کے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں جنہوں نے آفتاب کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔اور وہ قوم جن کے لئے دیوار بنائی گئی وہ میری جماعت ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہی ہیں جن کا دین دشمنوں کے دست برد سے بچے گا۔ہر ایک بنیاد جو ست ہے اس کو شرک اور دہریت کھاتی جائے گی۔مگر اس جماعت کی بڑی عمر ہوگی اور شیطان ان پر غالب نہیں آئے گا۔اور شیطانی گروہ ان پر غلبہ نہیں کرے گا۔اُن کی حجت تلوار سے زیادہ تیز اور نیزہ سے زیادہ اندر گھسنے والی ہوگی اور وہ قیامت تک ہر ایک مذہب پر غالب آتے رہیں گئے۔فرمایا: ”ہائے افسوس ان نادانوں پر جنہوں نے مجھے شناخت نہ کیا۔وہ کیسی تیرہ و تار یک آنکھیں تھیں جو سچائی کے نور کو دیکھ نہ سکیں۔میں اُن کو نظر نہیں آسکتا کیونکہ تعصب نے ان کی آنکھوں کو تاریک کر دیا۔دلوں پر زنگ ہے اور آنکھوں پر پردے۔اگر وہ سچی تلاش میں لگ جائیں اور اپنے دلوں کو کینہ سے پاک کر دیں۔دن کو روزے رکھیں اور راتوں کو اُٹھ کر نماز میں دعائیں کریں اور روئیں اور نعرے ماریں تو امید ہے کہ خدائے کریم ان پر ظاہر کر دے کہ میں کون ہوں۔چاہئے کہ خدا کے استغناء ذاتی سے ڈریں“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 313 تا315) اللہ تعالیٰ بڑا غنی ہے اُس سے ڈریں اورا اپنی عاقبت کی فکر کریں) فرمایا: ”اے لوگو! خدا کی اور خدا کے نشانوں کی تحقیر مت کرو اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو