خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 17

خطبات مسرور جلد 11 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء اور راست گو آدمی تھے ، انہیں رات کو خواب میں آیا کہ میں (یعنی وہ، میاں لال دین صاحب ) جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔حاضر ہونے پر میں نے حضور کو السلام علیکم عرض کیا۔حضور نے وعلیکم السلام فرما کر فوراً فرمایا کہ میاں لال دین ! آ گئے ہو؟ تو میں نے عرض کیا جی ہاں آ گیا ہوں۔حضور ایک کرسی پر رونق افروز تھے اور آپ کی دائیں طرف ایک کرسی پر ایک اور شخص بیٹھا تھا۔حضور نے فرمایا کہ میاں لال دین! تو نے اس آدمی کو پہچانا ہے؟ یہ مہدی ہے۔اُسے پہچان لے۔میں نے عرض کیا جناب میں نے پہچان لیا ہے۔کہتے ہیں، میاں لال دین صاحب مرحوم فرماتے ہیں کہ میں نے جو مہدی کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ اُن کے چہرے سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کے دیکھنے پر اُن کی طبیعت (یعنی میاں لال دین صاحب کی طبیعت) فوراً خدا تعالیٰ کی طرف جھک گئی اور بال بچوں کو نماز کی تلقین شروع کی۔خود مسجد میں زیادہ جاتے۔لوگوں نے انہیں دیوانہ تصور کیا اور دیوانگی کا علاج کرنے لگے۔مولوی سلطان حامد صاحب احمدی مرحوم ایک زبردست حکیم تھے۔انہوں نے جب یہ خواب سنی تو فوراً قادیان کی طرف روانہ ہو پڑے۔اُس وقت مہدی کی آمد کی مشہوری تھی۔مولوی صاحب کی روانگی پر میاں لال دین نے ان کو فرمایا کہ حضرت صاحب سے میرے لئے بھی دعا طلب فرما دیں۔جب مولوی صاحب مذکور بیعت کر کے واپس آئے ( یعنی مولوی سلطان حامد صاحب) تو میاں لال دین نے اُن سے دریافت فرمایا کہ میرے لئے دعا آپ نے حضرت صاحب سے منگوائی تھی۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ بھائی میں بھول گیا ہوں۔میاں لال دین صاحب نے فرمایا کہ اچھا آپ قادیان سے ہو آئے ہیں لیکن میں نہیں گیا، آپ مجھ سے قادیان کا حال دریافت فرمالیویں۔( یعنی گو میں گیا تو نہیں لیکن میں نے خواب میں جو نظارے دیکھے ہیں ، وہ سارا حال بیان کرسکتا ہوں ) چنانچہ انہوں نے قادیان کا نقشہ خواب میں جو دیکھا تھا، خوب کھینچ دیا۔مولوی صاحب متحیر ہو گئے۔مولوی صاحب کی زبانی گفتگوسن کر ( جو انہوں نے قادیان کے واقعات بیان کئے، یہ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ) ہم تین آدمی یعنی منشی کرم الہی گرد اور ( گرد اور محکمہ مال کا ایک پٹواری اور گرداوری عملے کا کارکن ہوتا ہے جو کھیتوں میں فصلوں کی پیمائش وغیرہ اور جو لگان لگتا ہے اُس کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔بہر حال محکمہ مال کے ملازم کو جو گاؤں میں متعین ہوتا ہے اُس کو گر داور بھی کہتے ہیں۔تو کہتے ہیں ) منشی کرم الہی صاحب گرداور، میاں رمضان دین میانہ اور میں نے بیعت کے خط تحریر کر دیئے۔( یہ وضاحت میں اس لئے بیان کر دیتا ہوں کہ بعض ترجمہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں بعض باتوں کا پتہ نہیں لگتا ) کہتے ہیں اس کے چند ماہ بعد