خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 216
خطبات مسرور جلد 11 216 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء عہد یداران کے اپنے نمونے افراد جماعت کو بھی نیکیوں پر قائم کرنے والے ہوں۔اگر خود اپنے قول و فعل میں تضاد ہے تو دوسرے کو کیا اور کس منہ سے نصیحت کر سکتے ہیں۔دوسرا تو پھر آپ کو منہ پر کہے گا کہ پہلے اپنی برائیاں درست کرو، اپنی زبان کوشستہ کرو، اپنے اخلاق کو بہتر کرو، اپنی دینی حالت کو سنوارو، اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کرو، اپنی نمازوں کو درست کرو، اپنے دنیاوی معاملات میں بھی انصاف قائم کرو، اپنی ایمانداری کے معیار بھی بڑھاؤ، جماعت کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے ایک درد پہلے اپنے اندر پیدا کرو، یہ ہر عہدیدار کی ذمہ داری بھی ہے۔مربیان جو خلیفہ وقت کے دینی تربیت کے لئے نمائندے ہیں، اُن کا احترام کرو۔یہ بھی عہدیداروں کا سب سے بڑا کام ہے کہ مربیان کا احترام کریں۔غرض اپنی ظاہری اور باطنی حالت کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرو۔تب ہی تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تم اُن لوگوں میں شامل ہو جو نیکیوں کو قائم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے کا حق رکھتے ہیں۔پس اس لحاظ سے ہر سطح پر جماعت کے، ہر عہدیدار کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر صدر جماعت اور امیر جماعت کو، جو جو جہاں جہاں ہے ورنہ یہ لوگ جماعت میں تفرقہ کا موجب بن رہے ہیں۔مربیان اور مبلغین کا سب سے زیادہ احترام ، صدر جماعت اور امیر جماعت کو کرنا چاہئے اور اس احترام کی وجہ سے مربیان یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارا حق ہے بلکہ اس سے اُن میں مزید عاجزی پیدا ہونی چاہئے۔اپنے نفس کی اصلاح کی طرف مزید توجہ پیدا ہونی چاہئے۔اور جب ہم ہر سطح پر اس کے معیار حاصل کر لیں گے تو پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی تربیت کے مسائل بھی حل ہوں گے، بہتر ہوں گے اور تبلیغ کے میدان میں بھی ہم غیر معمولی فتوحات دیکھیں گے۔یہ اکائی اور احترام اور اتفاق ہمارے ہر کام میں برکت ڈالے گا۔یہ بھی واضح کر دوں کہ عہد یداران کا آپس کا رویہ اور سلوک بھی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھا ہونا چاہئے ، معیاری ہونا چاہئے۔یہ بھی بہت ضروری ہے اور یہ کاموں میں برکت ڈالنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگر پھوٹ پڑی رہے، ایک دوسرے سے اختلافات بڑھتے چلے جائیں ، عزتوں اور اناؤں کا سوال پیدا ہوتا چلا جائے ، صبر اور حوصلہ کم ہوتا جائے تو پھر نتیجے بہت منفی قسم کے نکلتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک رئیس تھا، اُس کے پاس کسی شخص نے شکایت کی کہ آپ کا جو فلاں عزیز ہے یا امیر زادہ ہے اس نے مجھے بڑی گالیاں دی ہیں۔اُس رئیس نے اُس کو ( دوسرے شخص کو ، امیر زادے کو ) بلایا اور اُس کو بے انتہا