خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد 11 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد کی طرف زیادہ چل کر جانا۔نیز ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ رباط ہے، رباط ہے، رباط ہے۔یعنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، سرحدوں پر گھوڑے باندھنا ہے۔یہ جہاد ہے تمہارے لئے۔(سنن النسائی، کتاب الطهارة باب الامر باسباغ الوضوء) پس ہم میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔آج ہمیں اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کی بھی ضرورت ہے اور اس مقصد کو ہم نے حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا جو مقصد ہے، یہ بھی ایک جہاد ہے۔اس کی طرف بھی ہم نے توجہ دینی ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے تو اُس کے فضل کو حاصل کرنے والے ہم بنیں گے۔اور اس جہاد میں حصہ لینے والے ہوں گے جو نفس کا بھی جہاد ہے اور خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا بھی جہاد ہے۔آج کل کے معاشرے میں انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس جہاد کی ہے۔یہی جہاد ہے جو ہمیں معاشرے کی برائیوں سے بچا کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر کرنے والا بنائے گا۔خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائے گا۔اور یہی جہاد ہے جو ہمیں اور ہماری نسلوں کو دنیا کی غلاظتوں سے پاک اور صاف رکھنے والا بنائے گا۔پس اس انعام سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا ہے، اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اس مسجد کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے اُس کی عبادت سے سجائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنیں۔اللہ کرے کہ یہ مسجدان مقاصد کو پورا کرنے والی ہو اور ہم اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرنے والے بنیں ، ورنہ مسجد تو یہاں اس صوبے میں ہمارے سے پہلے مصر اور سعودی عرب کے پیسے سے مسلمانوں نے بنالی ہوئی ہے۔لیکن اُن میں مسیح محمدی کو نہ ماننے کی وجہ سے جو کمی ہے وہ کمی صرف اور صرف جماعت احمدیہ کی تعمیر کردہ مساجد سے پوری ہوسکتی ہے۔پس یہ بات ہر احمدی کو مزید توجہ اور فکر دلانے والی ہونی چاہئے کہ آپ کی ذمہ داری بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس مسجد کا حق ادا کرنے کے لئے آپ کو بہت زیادہ کوشش کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ اس کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔مسجد کے بارے میں چند کو ائف بھی پیش کر دیتا ہوں۔مسجد کا مسقف حصہ 1350 مربع فٹ ہے اور اس میں خرچ تقریباً ایک اعشاریہ دو ملین یورو کے قریب ہوا ہے اور جس میں سپین کی جماعت نے تھوڑا سا ہی دیا ہے، شاید وہ بھی نہیں دیا، بہر حال جو وعدے کئے ہیں اُن کو پورا کرنا چاہئے اور پھر جیسا کہ