خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد 11 204 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء صورت میں ہو سکتا ہے جب ہمارے اپنے دلوں میں یہ محبت ہو گی۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔کبر ونخوت کو چھوڑنے والے ہوں۔نمازوں میں سستیوں کو دور کرنے والے ہوں۔ہر وہ نماز جو ہمارے لئے ادا کرنی مشکل نظر آتی ہے، اُس کے لئے خاص کوشش کر کے ادا کرنے والے ہوں۔اگر ہمارے اندر باجماعت نمازیں ادا کرنے میں سستی ہے تو نماز باجماعت ادا کرنے کی طرف توجہ دینے والے بن جائیں۔یہ ہمارے لئے قربانیاں ہیں۔جو ماں باپ کا حق ادا کرنے والے نہیں، وہ اُن کے حق ادا کرنے والے بن جائیں۔جو بہنوں بھائیوں اور عزیزوں کے حقوق ادا کرنے والے نہیں، وہ حقوق ادا کرنے والے بن جائیں۔ہمسائے کو خدا تعالیٰ نے بڑا مقام دیا ہے، ہمسایوں کے حق ادا کرنے والے بن جائیں۔یہ کوشش ہر احمدی کی ہونی چاہئے کہ ہمسایوں سے ہر احمدی کا سلوک اُس کو احمدیت اور حقیقی اسلام کا گرویدہ بنانے والا بن جائے۔غرضیکہ ہم ہر نیکی کو ادا کرنے والے اور اُس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نیکیاں کرنے والے ہوں گے تو تب ہی ہم حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرنے والے بن سکتے ہیں کہ اے اللہ ہماری توبہ قبول کر اور ہم پر رحم کر۔جب ہم اللہ تعالیٰ کے رحم کے طلب گار بنتے ہیں تو دوسروں پر بھی ہمیں پھر رحم کی نظر ڈالنی ہو گی۔یہ نہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ سے رحم مانگتے رہیں اور اپنے دائرے میں رحم کرنے والے نہ ہوں۔پس مسجد کے ساتھ اگر ایک مومن حقیقی رنگ میں منسلک ہوتا ہے تو نیکیوں کے نئے سے نئے دروازے اُس پر کھلتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی بخشش کے نئے سے نئے اظہار اُس سے ہوتے ہیں۔پس آج ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عطا کردہ مسجد ہمیں اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے اور یہ اظہار ہم سے ہوں۔اس مسجد کو یہاں کے رہنے والوں نے خود بھی آباد رکھنا ہے اور اپنے بچوں کے ذریعہ سے بھی آباد کروانا ہے، اور اس کا حق ادا کرتے ہوئے آباد کروانا ہے۔انشاء اللہ۔صرف مسجد میں آنا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا حق ادا کرنا بھی مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ وہ تمام برکات اور اللہ تعالیٰ کے فضل جو مساجد کے ساتھ وابستہ ہیں، ہم انہیں حاصل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول کرنے والا اور ہماری غلطیوں کو معاف کرنے والا ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوھریرہ سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور درجات کو بلند فرماتا ہے۔صحابہ نے جب عرض کیا کہ جی، فرما ئیں۔تو آپ نے فرمایا کہ جی نہ چاہتے ہوئے بھی کامل وضو کرنا،