خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 133

خطبات مسرور جلد 11 133 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء بعض لوگ خراب ہو جاتے ہیں۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر در حقیقت وہ مومن نہیں ہوتے اور قرآن یہ بتاتا ہے کہ خالی اپنے آپ کو مومن کہہ لینا کافی نہیں جب تک انسان اپنے عمل سے بھی ایمان کا ثبوت نہ دے۔اب آپ ہی بتائیں کہ جب مسلمان بھی بگڑ سکتے ہیں تو کیا خدا اُن کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجے گا یا نہیں۔فرمایا کہ دلوں کی تسلی تو بہر حال اللہ کا کام ہے لیکن بہر حال اس بات پر وہ چپ ہو گیا۔پھر آخر میں آپ فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی سب کچھ آتا ہے، انسانی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔اس لئے یا درکھو دعا ئیں جب تک مضطر ہو کر نہ کی جائیں ، یعنی اس یقین کے ساتھ کہ دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہستی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے، اُس وقت تک قبول نہیں ہوتیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں مگر بہر حال وہ انسان کو کپڑا ہی دے سکتے ہیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں مگر بہر حال وہ دوسرے کو مکان ہی دے سکتے ہیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خدا کے دیئے ہوئے علم میں سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر بہر حال وہ بیماروں کا علاج ہی کر سکتے ہیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دیئے ہوئے علم سے دوسروں کی حفاظت کے لئے مقدمہ مفت لڑ سکتے ہیں مگر بہر حال وہ مقدمہ بغیر فیس کے لینے کے ہی لڑ سکتے ہیں۔مگر کوئی انسان دنیا کا ایسا نظر نہیں آسکتا جس کے ہاتھ میں یہ ساری چیزیں ہوں۔کوئی انسان ایسا نہیں جس کے ہاتھ میں دلوں کی تبدیلی ہو، کوئی انسان ایسا نہیں جس کے ہاتھ میں جذبات کی تبدیلی ہو۔یہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضہ اور تصرف میں تمام چیزیں ہیں اور جو دلوں اور اُس کے نہاں در نہاں جذبات کو بھی بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس جب تک مضطر ہوکر دعانہ کی جائے اور جب تک چاروں طرف سے مایوس ہو کر اور خدا پر کامل ایمان رکھ کر دعا نہ کی جائے ، اُس وقت تک دعا قبول نہیں ہوتی لیکن جب اس رنگ میں دعا کی جائے تو وہ خدا کے عرش پر ضرور پہنچتی ہے اور قبول ہو کر رہتی ہے۔تو آپ کا جو انداز خطاب تھا یہ اُس کی بعض جھلکیاں تھیں جو میں نے پیش کیں۔پس آج اس کے حوالے سے میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آج بھی اگر ہم نے حالات کو بدلنا ہے تو تمام طاقتوں کے مالک خدا کے آگے جھکنا ہوگا اور اس طرح جھکنا ہوگا جس طرح ہم نے اس میں یہ سنا کہ تمام طاقتوں کا سر چشمہ وہی ہے، تمام قسم کی مدد اُسی سے مل سکتی ہے۔دلوں کو پھیر نے والا وہی ہے۔دلوں کو قابو کر نے والا وہی ہے۔لوگوں کی طاقتوں کو قابو کرنے والا وہی ہے۔اللہ کرے کہ ہم ایسی دعائیں کرنے والے ہوں۔