خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 112

خطبات مسرور جلد 11 112 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء اسلام کی فتح اور ایسا شور ہوا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اور اُسی وقت میرے دل میں یہ ڈالا گیا تھا کہ تاج برطانیہ کا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 4 صفحہ 4 تا6 از روایات حضرت ڈاکٹر نعمت خان صاحب) حضرت میاں سو ہنے خان صاحب فرماتے ہیں کہ مئی 1938ء ( میں ) جس وقت احرار کا بہت زور تھا، اُس وقت میں نے دعا کرنی شروع کی اور درود شریف کثرت سے پڑھنا شروع کر دیا۔(احرار نے جماعت کے خلاف بہت زیادہ شورش اُٹھائی تھی) کہ یارب ! میرے پیر کی عزت رکھیں، دشمن کا بہت زور ہے۔تو مجھ کو سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ تین اونٹ ہیں۔ایک اونٹ پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر بھی اُس کے اوپر ہیں۔اور صحابی دوسرے اونٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب نے فرمایا کہ سوہنے خاں! تم آ گئے ہو؟ جاؤ اور قدم آہستہ آہستہ چلنا تا کہ دشمن پر رعب ہو جاوے۔حضور کا غلام آگے آگے چلا۔جب دس قدم چلا تو حکم ہوا کہ سو ہنے خاں ! تم پیچھے ہو جاؤ تمہارا پاؤں شور کرتا ہے۔سرور کائنات اونٹ سے اتر کر پیادہ ہوکر آگے چلنے لگے۔جب مسجد مبارک کے ( قادیان کی مسجد مبارک کے ) پاس پہنچے تو سب صحابی اونٹوں سے اُتر کر اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد مبارک میں بھی چلے گئے۔سب صحابیوں کو مسجد مبارک میں چھوڑ کر ( صحابی بھی ساتھ تھے ، مسجد مبارک میں چلے گئے ) پھر مسجد مبارک کی جو کھڑ کی لگی ہوئی ہے، وہاں سے گزر کر خلیفہ ثانی کے گھر پہنچ گئے۔( یہاں ان کی خواب ختم ہوتی ہے )۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 12 صفحہ 200-201 از روایات حضرت میاں سو ہنے خان صاحب ) حضرت خیر دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ امیر کابل کہتا ہے کہ میں نے اپنا پیسہ بھیج دیا ہے۔پیچھے آپ بھی آ رہا ہوں۔جب مستریوں نے ایک فتنہ برپا کیا ( یہ مستریوں کا جو فتنہ تھا، یہ وہاں قادیان میں ایک اندرونی فتنہ تھا، انہوں نے بڑا شور مچایا تھا ) تو اُس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ ثانی آسمان پر ٹہل رہے ہیں۔گویا اس میں یہ بتایا کہ اُن کا اتنا اونچا مقام ہے کہ اُن کے مقام تک پہنچنا نہایت ہی مشکل ہے، گو یا محال ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کے لوگ جتنا چاہیں زور لگا لیں خدا کے فضل سے ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اُن کا قدم مبارک بہت بلندی پر ہے۔یہ حضور علیہ السلام کے اس شعر کے ماتحت ہے کہ آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 7 صفحہ 160 از روایات حضرت خیر دین صاحب)