خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 93

خطبات مسرور جلد دهم 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء ہیں اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہی نہیں ہیں اور گو یا خدا نے اُن کو پیدا کر کے پھر ردی کی طرح پھینک دیا ہے۔یا اُن کو بھول گیا ہے۔یا ( نَعُوذُ بِالله ) وہ اُس کے پیدا 66 پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 440) کردہ ہی نہیں ہیں۔“ پس جس طرح رب العالمین مادی سامان انسان کی پرورش کا مہیا فرما تا ہے، روحانی سامان بھی مہیا فرماتا ہے۔یہ اُس کی ربوبیت ہے۔جو اس سے انکار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت سے انکار کرتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس زمانے میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھتے ہیں اور پھر مسیح موعود کا انکار کر رہے ہیں، انہیں بھی سوچنا چاہئے اور ہمیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بیعت کرنے کے بعد جیسا کہ میں نے کہا یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی روحانیت اور تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے (میرے) بندو! میری صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے پہچانو۔میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد ( کا مقام انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔اور تم آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابل تعریف صفات نہیں پاؤ گے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔اور اگر تم میری قابل حمد صفات کو شمار کرنا چا ہو تو تم ہر گز انہیں نہیں گن سکو گے۔اگر چہ تم کتنا ہی جان تو ڑ کر سوچو اور اپنے کام میں مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارہ میں کتنی ہی تکلیف اٹھاؤ۔خوب سوچو کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو۔کیا تمہیں ایسے کمال کا سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو اور اگر تم ایسا گمان کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں میں سے ہو۔بلکہ یقیناً میں اللہ تعالیٰ ) اپنی ستودہ صفات اور اپنے کمالات سے پہچانا جاتا ہوں ( یعنی وہ صفات جن کی تعریف کی جاتی ہے اور اپنے کمالات جو ہیں اُن سے پہچانا جاتا ہوں) اور میری موسلا دھار بارش کا پتہ میری برکات کے بادلوں سے ہوتا ہے۔پس جن لوگوں نے مجھے تمام صفات کا ملہ اور تمام کمالات کا جامع یقین کیا اور انہوں نے جہاں جو کمال بھی دیکھا اور اپنے خیال کی انتہائی پرواز تک انہیں جو جلال بھی نظر آیا انہوں نے اسے میری طرف ہی نسبت دی اور ہر عظمت جو ان کی عقلوں اور نظروں میں نمایاں ہوئی اور ہر قدرت جوان کے افکار کے آئینہ میں انہیں دکھائی دی ان کی فکروں کی سوچ جہاں تک تھی ، اُس میں دکھائی دی )‘انہوں نے اسے میری طرف ہی منسوب کیا۔پس یہ ایسے لوگ ہیں جو میری معرفت کی راہوں پر گامزن ہیں۔