خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 90

خطبات مسر در جلد دہم 90 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء ربوبیت کی پہچان کرنے والے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیا کی وجہ سے نیچی ہوتی ہیں اور ایسے چہروں کے ساتھ جو قبلہ حاجات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو بلندی کی چوٹی کو دستک دے رہی ہوتی ہے۔“ (انسان کی جو بندگی ہے ، اُس میں لگ جاتے ہیں، اُس کا حق اس طرح ادا کرتے ہیں جو انتہائی درجے کا حق ہے۔ایسے وقتوں میں اُن لوگوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے جب معاملہ گمراہی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور حالت کے بدل جانے سے لوگ درندوں اور چوپایوں کی طرح ہو جاتے ہیں تو اُس وقت رحمت الہی اور عنایت از لی تقاضا کرتی ہے کہ آسمان میں ایسا وجود پیدا کیا جائے جو تاریکی کو دور کرے، اور ابلیس نے جو عمارتیں تعمیر کی ہیں اور خیمے لگائے ہیں انہیں منہدم کر دے۔تب خدائے رحمان کی طرف سے ایک امام نازل ہوتا ہے تاکہ وہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرے۔“ (جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا، آپ نے کشف میں دیکھا تھا) فرمایا اور یہ دونوں رحمانی اور شیطانی لشکر برسر پیکار رہتے ہیں۔“ (ایک رحمانی لشکر ہوتا ہے، ایک شیطانی لشکر ہوتا ہے، آپس میں اُن کی جنگ جاری ہو جاتی ہے ) ” اور ان کو وہی دیکھتا ہے جس کو دو آنکھیں عطا کی گئی ہوں۔( یعنی کہ آنکھیں نظر سے دیکھنے والا بصیرت کی نظر رکھنے والا دیکھ سکتا ہے، خدا تعالیٰ کی صحیح بندگی ادا کرنے والا دیکھ سکتا ہے اُس کی ربوبیت کو پہچانے والا دیکھ سکتا ہے ) یہاں تک کہ باطل کی گردنوں میں طوق پڑ جاتے ہیں اور امور باطلہ کی سراب نما دلیلیں معدوم ہو جاتی ہیں۔پس وہ امام دشمنوں پر ہمیشہ غالب اور ہدایت یافتہ گروہ کا مددگار رہتا ہے۔ہدایت کے علم بلند کرتا ہے اور پرہیز گاری کے اوقات و اجتماعات کو زندہ کرنے والا ہوتا ہے۔“ ( پر ہیز گاری، نیکی، تقوی کی باتیں، زیادہ وقت اُس پر صرف ہوتے ہیں۔ایسے اکٹھ ہوتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے ذکر ہورہے ہوں ، عبادت کی باتیں ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے کفر کے سرغنوں کو قید کر دیا ہے۔اور ان کی مشکیں کس دی ہیں اور اس نے جھوٹ اور فریب کے درندوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور اس نے بدعات کی عمارتوں کو گرا دیا ہے اور ان کے گنبدوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے اور اُس نے ایمان کے کلمے کو اکٹھا کر دیا ہے اور اُس کے اسباب کو منظم کر دیا ہے اُس نے آسمانی سلطنت کو مضبوط کیا ہے اور تمام رخنوں کو بند کر دیا ہے۔“ (اردو ترجمه عربی عبارت از اعجاز اُسی روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 132-134 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 93، 94) پس آج جونئی زمین اور نیا آسمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے پیدا ہوا ، جس