خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 89

خطبات مسرور جلد دهم 89 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء گمراہی کے بعد ہدایت کا دور لے کر آتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے قول رب العلمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اس زمین پر جو بھی ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور خطا کارگروہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں۔کبھی گمراہی ، کفر فسق اور اعتدال کو ترک کرنے کا (عالم) بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم و جور سے بھر جاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔نہ وہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے ہیں۔“ ( نہ بندگی کا حق اداء کی حقیقت اُن کے سامنے ہوتی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا حق ادا کیا جاتا ہے ) فرمایا کہ زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور عالم لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جاتی ہے اور ایک نئی تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے اور لوگوں کو عارف شناسا دل اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے ناطق زبانیں عطا ہوتی ہیں۔“ (بولنے والی زبانیں عطا کی جاتی ہیں )۔پس وہ اپنے نفوس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک پامال راستہ کی طرح بنا لیتے ہیں۔اور خوف اور امید کے ساتھ اس کی طرف آتے ہیں۔ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیاء کی وجہ سے نیچی ہوتی ہیں اور ایسے چہروں کے ساتھ جو قبلہ حاجات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو بلندی کی چوٹی کو دستک دے رہی ہوتی ہے۔“ اردو تر جمه عربی عبارت از کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 131 ،132 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 93،92) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں ذکر کیا ہے کہ ایک اور عالم لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام بھی ہوا تھا۔کشفی رنگ میں آپ نے دیکھا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا ہے اور پھر میں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں۔اس پر اُس زمانے میں مولویوں نے بڑا شور مچایا کہ دیکھو خدائی کا دعویٰ کر دیا ہے۔تو آپ فرماتے ہیں کہ یہ خدائی کا دعوی نہیں ہے۔مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔“ (ماخوذ از چشمه مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 376،375 حاشیہ) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے والے ہیں۔عبودیت کا حق ادا کرنے والے ہیں اور