خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 788
خطبات مسر در جلد دہم 788 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء اسی طرح اب میں نے کوشش کرنی ہے کہ خلیفہ کا برلن میں جرمن پارلیمنٹ سے بھی خطاب ہو۔Hakan Temirel ممبر صوبائی اسمبلی ہیمبرگ نے اس دن اُن کو میں نے وہاں جو باتیں بتائی تھیں، کہا کہ آج جو ہماری رہنمائی کی ہے، اس رہنمائی کی پوری اسلامی دنیا کو ضرورت ہے۔اب یہ یورپین پارلیمنٹ سے آگے ہیمبرگ کے فنکشن کا ذکر چل رہا ہے۔یہ اگلے دن ہی تھا۔منگل کو یورپین پارلیمنٹ میں تھا، بدھ کو ہیمبرگ میں ہیمبرگ میں ہی انٹیگریشن آفیسر (Integration Officer) کسی احمدی دوست کو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے خلیفہ نے اسلام کی تعلیم کو انتہائی عمدہ اور خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے جس سے بعض غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گیا ہے۔مجھے اس پروگرام میں شامل ہو کر بہت خوشی ہوئی ہے اور اسلام کی اصل تعلیم کا پتہ چلا ہے۔اب ہم جماعت کے نمائندگان کو اپنے پروگراموں میں بلائیں گے تا کہ آپ لوگ وہاں آکر اسلام کی تعلیم پیش کریں۔ہیمبرگ کے علاقہ ہار برگ (Harburg) کی کونسل کے ایک نمائندے نے کہا کہ جس طرح وہ الفاظ کی ادائیگی کر رہے تھے، وہ دلوں میں اتر رہے تھے، ایسا تو ہمارے مذہب کا کوئی بھی نمائندہ نہیں کر سکتا۔پھر کہا خلیفہ نے جس طرح خاص طور پر اسلام کا تصور پیش کیا ہے ، اسلام کی یہ حسین تعلیم پیش کی ہے کہ جس ملک میں رہتے ہو اس سے محبت کرنی چاہئے ، یہ میرے لئے اسلام کی ایک نئی تصویر ہے۔ایک خاتون نے اب یہ ذاتی میرے بارے میں تاثر دیا ہے ( میں اسے چھوڑتا ہوں۔) پھر انٹیگریشن کے حکومتی ادارے سے تعلق رکھنے والی دو آ فیسر خاتون آئمیں ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سارے ڈر اور خوف دور ہو گئے ہیں۔خلیفہ نے اپنی تقریر کے اندر ہمارے سارے خوف دور کر دیئے ہیں۔مسلمانوں کو ایسے ہی خیالات رکھنے چاہئیں۔اسلام کی تعلیم تو بہت پر امن ہے، جو خوف سوسائٹی میں ہمیں نظر آ رہا تھا وہ اب دور ہو گیا ہے۔ہیمبرگ کے ایک علاقے میں حکومتی وفاقی دفاتر کے Head اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے ہوئے تھے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا محسوس کیا جس طرح شہد کی مکھیاں ہوتی ہیں اور اُن کی ایک ملکہ ہوتی ہے۔ساری مکھیاں اپنی ملکہ کے گرد گھومتی ہیں اور اس کے لئے اپنی جان دیتی ہیں۔اسی طرح آپ کی ساری جماعت اپنے خلیفہ کے گرد کام کرتی ہے اور خلیفہ پر اپنی جان دیتی ہے اور کامل اطاعت کرتی ہے۔تو یہ نظارے بھی غیروں کو نظر آتے ہیں اور لکھا کہ اس دوران خلیفہ کی بھی صورتحال شہد کی ملکہ کی طرح ہے۔اور اس کا ذکر کیا کہ جماعت کس طرح اپنے خلیفہ کا احترام کرتی ہے۔