خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 73

خطبات مسر در جلد دہم 73 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012ء سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش بھی ہو گی تو پھر اس سے محسنین میں شامل ہونے کی ایک اور معراج ملتی ہے۔قدم پھر آگے بڑھتے ہیں۔ایک نئے راستے کا تعین ہوتا ہے جو مزید روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے کر جاتا ہے اور جب یہ روحانی اور اخلاقی ترقی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی معیت کے نئے زاویے بھی نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق بڑھتا ہے۔اُس کی صفات کا مزید ادراک پیدا ہوتا ہے اور پھر تقویٰ میں بھی ترقی ہوتی ہے۔گویا کہ ایک سائیکل (Cycle) ہے، ایک چکر ہے جو نیکیوں کے اردگرد گھومتے ہوئے ، تقویٰ کے اعلیٰ مدارج تک لے جاتے ہوئے خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے پھر تو فیق بڑھتی ہے۔پھر مزید نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور پھر نتیجتا ان چیزوں سے، ان باتوں سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا زیادہ عرفان حاصل ہوتا ہے۔تو یہ وہ احسان ہے،محسن بننا ہے جو اللہ تعالیٰ ایک انسان کو بناتا ہے۔جو احسان جتانے والے محسن نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کی خاطر قربانی کر کے اپنے او پر سختی وارد کرتے ہیں اور اپنے حقوق چھوڑتے ہیں ، پھر وہ اس اصول پر چلتے ہیں کہ اپنے حقوق لینے پر زور نہ دو بلکہ دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دو۔میں اکثر غیروں کے سامنے ، جو بھی لیڈر ملتے ہیں یا اسلام پر اعتراض کرنے والے بعض دنیا دار لوگ، یا اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقفیت نہ رکھنے والے، اُن کے سامنے یہ بات بھی پیش کرتا ہوں کہ دنیا والوں کا تمام زور اس بات پر ہے کہ ہمارے حقوق ادا کرو اور پھر اپنے حقوق کا ایک معیار قائم کر کے پھر اس کے حاصل کرنے کے لئے جو بھی بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں نہ حقوق مانگنے والا انصاف سے اور تقویٰ سے کام لیتا ہے اور نہ حقوق دینے والا انصاف اور تقویٰ سے کام لیتا ہے، اس میں مسلمان بھی شامل ہیں، غیر مسلم بھی شامل ہیں۔اور نتیجہ فساد پیدا ہوتا ہے۔جبکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے اور مسلمانوں کو اس تعلیم پر عمل کرنا چاہئے اور اگر یہ عمل کریں تو جو بھی اس وقت حکومتوں میں اور ملکوں میں، دنیا میں فساد ہیں وہ کم از کم مسلمان ملکوں میں کبھی نہ ہوں۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دوسرے کے حقوق ادا کرو۔اس سے پہلے کہ دوسرا اپنے حق کا مطالبہ کرے اُس کا حق ادا کرو۔بلکہ اُس پر احسان کرتے ہوئے انسانیت کی قدروں کو قائم کرنے کے لئے محسنین میں شمار ہو جاؤ۔اُن کی ضروریات کا اُن سے بڑھ کر خیال رکھو۔مثلاً ملازمین کے بارے میں، خادموں کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ جو خود پہنو اپنے غریب ملازم کو پہناؤ۔جو خود کھاؤ اسے کھلاؤ۔(بخاری کتاب العتق باب قول النبی الله العبيد اخوانكم فاطعموهم مماتاكلون حديث 2545) اس تعلیم کو اگر دنیا کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کے عوام بھو کے نہیں رہ سکتے ،