خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 72

خطبات مسرور جلد دہم 72 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء رہے ہیں۔جب یہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور جب کام مکمل ہو جاتا ہے تو وہاں کے مقامی لوگوں کی جو خوشی ہوتی ہے وہ دیکھنے والی ہوتی ہے۔جب یہ تصویریں لے کے یہاں آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کتنا بڑا کام ہے۔جس کو ہم تو معمولی سمجھ رہے تھے لیکن اُن لوگوں کے نزدیک اس کی کتنی اہمیت ہے۔اُن کے چہروں پر کس طرح خوشی ہے۔آٹھ دس سال کا بچہ جو پانچ پانچ میں سے ایک بالٹی سر پر اٹھا کر لے کے آرہا ہو، اُس کے لئے تو یہ ایک نعمت ہے کہ اُس کو گھر میں پینے کا صاف پانی مل جائے۔اب یہ سب کام جو ہے یہ کسی بدلے کے طور پر تو نہیں ہور ہا اور نہ پھر کبھی احسان جتایا جاتا ہے۔بلکہ ہمارے نو جوان اور انجینئر جب کام کر کے واپس آتے ہیں تو شکر گزار ہوتے ہیں کہ آپ نے ہمیں موقع دیا اور یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالی آئندہ بھی جائیں گے۔اس سال پانچ ماڈل و ٹیج مختلف ملکوں میں بنائے جارہے ہیں، انشاء اللہ۔بعض ملکوں کی ذیلی تنظیموں نے ، مثلاً امریکہ، یو کے وغیرہ کے انصار اللہ نے خرچ پورا کرنے کی ذمہ واری اُٹھائی ہے۔اسی طرح ہی منٹی فرسٹ والوں نے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالا ہے۔جرمنی والوں کو بھی میں نے کہا ہے۔تو یہ جذ بہ خدمت ان کام کرنے والوں کو محسنین میں شمار کرتا ہے۔اور اسی طرح جو اس خدمت کے لئے فنڈ مہیا کرتے ہیں وہ بھی اُن میں شمار ہوتے ہیں۔ایک احمدی جس نے زمانے کے امام کو مانا ہے، تقویٰ پر چلنے کا عہد کیا ہے، وہ حتی المقدور اُس تقویٰ کے حصول کی کوشش بھی کرتا ہے اور محسنین میں شامل ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں اور میں ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ہمارے لڑکے جن کا میں نے کہا جب یہ کام کر کے واپس آتے ہیں تو خود بھی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں کس طرح بعض دفعہ بعض مشکلات پیش آئیں اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا اور نامعلوم طریقے سے، غیر محسوس طریقے سے اُن مسائل کو حل کر دیا اور وہ کہتے ہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ہمارا یقین مزید بڑھتا ہے۔اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا محسنین کا یہ مطلب بھی ہے کہ اپنی بھی فکر کرنا اور اپنے علم وعرفان کو بھی کمال تک پہنچانے کی کوشش کرنا اور یہ احسان اپنے پر بھی ہے۔نیک صالح عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور پھر اس میں بڑھنا یہ بھی اس کا ایک مطلب ہے۔اور پھر یہ کہ علم ومعرفت سے خود بھی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کو اپنی زندگی پر لاگو کرنا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانا۔جتنا جتنا علم ومعرفت زیادہ ہوگا اور پھر اس