خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 771 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 771

خطبات مسر در جلد دہم 771 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء ایک سچائی ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود کو ہم ماننے والے ہیں لیکن یہی سچائی احمد یوں کو بہت سے ممالک میں اور سب سے بڑھ کر پاکستان میں مشکلات میں گرفتار کئے ہوئے ہے۔اس کے اظہار پر احمد یوں کو سزائیں دی جاتی ہیں لیکن پھر بھی ایمان پر قائم ہیں۔یہاں ضمناً یہ بھی بتا دوں کہ احمدی حالات کی وجہ سے پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں اسائلم کے لئے آتے ہیں تو سچائی کے اظہار کی وجہ سے انہیں اپنے ملکوں سے یہ ہجرت کرنی پڑ رہی ہے۔لیکن یہاں آ کر اگر جھوٹ اور غلط بیانی کو وہ اپنے اسائلم کا ذریعہ بنالیں گے تو سارے کئے دھرے پر پانی پھیر دیں گے۔ان ملکوں میں سچائی کی ابھی بھی بہت قدر ہے۔بعضوں کے کیس تو بڑے جینوئن (Genuine) ہوتے ہیں، بعضوں کے مقدمات ہیں، ماریں پڑی ہوئی ہیں، مخالفتیں ، دشمنیاں ہیں۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو کچھ نہیں ہے لیکن سچ بول کر اگر وہ یہی بتا دیں کہ ایک مسلسل ٹارچر اور لاقانونیت اور احمدیوں کے خلاف جو قانون ہے اُس نے ہماری زندگی کی آزادی چھین لی ہے اور اب ایسے حالات ہیں کہ ہم اس کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔بیشک پاکستان میں ابھی لاکھوں کی تعداد میں احمدی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ رہیں گے لیکن ہر ایک کا برداشت کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ہم میں اب برداشت نہیں رہی اس لئے ہم یہاں ہجرت کر آئے ہیں۔تو اس بات کو یہ لوگ سمجھتے ہیں اور ہمدردی کے جذبے کے تحت اسائلم یا لمباویزا دے دیتے ہیں۔لیکن اگر جھوٹ بولیں تو پھر ایک جھوٹ کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔یوں بعضوں کے کیس تو خراب ہوتے ہی ہیں یا اگر بالفرض بعض کیس پاس بھی ہو جا ئیں تو یہ بات تو یقینی ہے کہ ایسا شخص پھر اپنے خدا کو ناراض کرنے والا بن جاتا ہے۔پس اپنے خدا کی رضا کو ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔میں نے جن کو بھی سچائی بیان کرنے کا کہا ہے، سچائی کی بنیاد پر اپنا کیس کرنے کا کہا ہے اور انہوں نے سچائی سے کام بھی لیا ہے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے حضور جھکے بھی ہیں تو اُن کے کیس میں نے دیکھا ہے چند دنوں میں پاس ہو گئے ہیں۔ایک حدیث کے مطابق تو سچائی پر قائم رہتے ہوئے دنیا کی خاطر ہجرت کرنے والے بھی شہید بلکہ صدیق ہیں۔ابو درداء سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے دین میں فتنے کے ڈر سے بچاؤ کی خاطر ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں صدیق ہے، اگر وہ اسی حالت میں فوت ہو جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ” اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول