خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 770 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 770

خطبات مسرور جلد دہم 770 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء اس کی ایک مثال دی ہے کہ جیسے کوئی فقیر یا مانگنے والا اگر کسی کے پاس جائے تو اکثر اُس فقیر کو کوئی دنیا دار جس کے پاس وہ جاتا ہے، کچھ نہ کچھ دے دیتا ہے۔لیکن اُس میں عموما دکھاوا ہوتا ہے لیکن شہید کا یہ مقام نہیں۔شہید یہ نیکی اس لئے کر رہا ہوتا ہے کہ اُس کی نیک فطرت اُسے نیکی پر مجبور کرتی ہے اور فطرتی نیکی کی یہ طاقت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔کسی نیکی کے کرنے کسی خدمت کے کرنے پر کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں نے کوئی بڑا کام کیا ہے، مجھے ضرور اُس کا بدلہ یا خوشنودی کا اظہار دنیا والوں سے ملنا چاہئے۔کیونکہ جماعت کی خدمت کی ہے تو ضرور مجھے عہدیداران اُس کا بدلہ دیں۔نہیں۔بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر کام ہونا چاہئے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ”تریاق القلوب میں فرماتے ہیں کہ: مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی محتوت ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔تب اس یقین کی برکت سے اعمال صالحہ کی مرارت اور تلخی دور ہو جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضاء و قدر باعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحنِ سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے۔اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سوشہید اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہو اور اُس کے تلخ قضاء و قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اُٹھاتا ہے۔اور اسی معنے کے رُو سے شہید کہلاتا ہے۔اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لئے بطور نشان کے ہے۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 420-421) روز جزا پر ایمان تو ہر مومن کو ہے لیکن اس پر یقین کیا ہے؟ اس پر یقین خدا تعالیٰ سے اس دنیا میں تعلق پیدا کرنے سے ہے۔دنیا دار بھی اپنے محبوب کی خاطر کئی سختیاں برداشت کر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ جو سب محبوبوں سے زیادہ محبوب ہونا چاہئے ، اس کی خاطر کتنی سختیاں برداشت کرنے کی ضرورت ہے؟ جبکہ دنیا کی محبتیں تو یا وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں یا پھر اس دنیا میں ختم ہو جاتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی محبت کے پھل تو اس دنیا سے گزرنے کے بعد اگلی زندگی میں اور بھی بڑھ کر لگتے ہیں۔نیک اعمال کی جزا خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں لے جاتی ہے۔بعض اعمال جو انسان اس دنیا میں کرتا ہے، بیشک بعض اوقات سخت اور کڑے ہوتے ہیں۔مثلاً ایک دنیا دار تو جھوٹ بول کر اپنی دنیاوی بہتری کے سامان کر لیتا ہے لیکن ایک حقیقی مومن جھوٹ کو شرک کے برابر سمجھ کر کبھی جھوٹ بول کر فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ سچائی بعض اوقات اس دنیا میں نقصان کا باعث بھی بن رہی ہوتی ہے یا اُسے بنارہی ہوتی ہے۔مثلاً احمدیت