خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 752 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 752

خطبات مسرور جلد دہم 752 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012ء پہلے بھی تین چارسال میرے والد صاحب نے بیعت کے لئے بھیجا تھا مگر میں بسبب بعض وجوہ کے واپس گھر چلا گیا۔اس کے بعد سید بہاول شاہ صاحب جو ہمارے دلی دوست اور استاد بھی ہیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی اور انہوں نے مجھے حضور کی کتابیں سنانی شروع کیں۔جتنی اُس وقت تک حضور کی کتب تصنیف ہو چکی تھیں قریباً قریباً ساری مجھ کو سنائیں۔( جوان پڑھ تھے وہ بھی کتا ہیں سنا کرتے تھے ) کہتے ہیں انہی دنوں میں میں نے رویا میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتا ہوں کہ حضور! مرزا صاحب نے جو اس وقت دعویٰ مسیح اور مہدی ہونے کا کیا ہے، کیا وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں بچے ہیں۔میں نے کہا حضور ! قسم کھا کر بتاؤ۔آپ نے فرمایا مجھے قسم کھانے کی حاجت نہیں (ضرورت نہیں )۔میں امین ہوں زمینوں اور آسمانوں میں۔( یعنی کہ امین ہوں زمین و آسمان میں۔) اس کے بعد اُسی رات کی صبح کو میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں بیعت کا خط اور اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا السلام علیکم بھی لکھ دیا۔پھر اس کے بعد 1900ء میں قادیان شریف آ کر حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد 4 صفحہ 120 روایت حضرت حافظ محمدابراہیم صاحب) حضرت منشی برکت علی خان صاحب اپنی ایک مبارک خواب یوں بیان فرماتے ہیں۔ان کا بیعت کا سن 1901 ء ہے اور اُسی سال انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت بھی کی۔کہتے ہیں 1901ء کے شروع میں جبکہ مردم شماری ہونے والی تھی، حضور نے ایک اشتہار شائع فرما یا جس میں درج تھا کہ جولوگ مجھے پر دل میں ایمان رکھتے ہیں، گو ظاہر بیعت نہیں کی ہو ، وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا سکتے ہیں۔اُس وقت مجھے اس قدر حسنِ ظن ہو گیا تھا کہ میں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا اور گو میں نے بیعت نہ کی تھی لیکن مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوا دیا۔مجھے خواب میں ایک روز حضور کی زیارت ہوئی۔صبح قریباً چار بجے کا وقت تھا۔مجھے معلوم ہوا کہ حضور برابر والے احمدیوں کے کمرہ میں آئے ہیں۔چنانچہ میں بھی حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے اُس کمرے میں گیا اور جا کر السلام علیکم عرض کی۔حضور نے جواب دیا: وعلیکم السلام اور فرمایا۔برکت علی ! تم ہماری طرف کب آؤ گے؟ میں نے عرض کی حضرت ! اب آ ہی جاؤں گا۔حضور اُس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے۔جسم بنگا تھا۔سر کے بال ننگے اور پیٹ بھی نظر آ رہا تھا۔اُس وقت کے چند روز بعد میں نے تحریری بیعت کر لی۔یہ نظارہ مجھے اب تک ایسا ہی یاد ہے جیسا کہ بیداری میں ہوا ہو۔اُس کے بعد جلسہ سالانہ کے مقام پر میں نے دارالامان میں