خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 750 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 750

خطبات مسرور جلد دہم 750 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012ء میں وہاں سے پیدل ہی چل پڑا اور قادیان پہنچا۔جب میں یہاں آیا تو میں کئی دن ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ایک دن میں نے حکیم فضل دین صاحب بھیروی سے ذکر کیا کہ میں نے حضور کی بیعت کرنی ہے۔تو حکیم صاحب نے فرمایا کہ میں نے سمجھا کہ یونہی لڑکا ادھر اُدھر پھر رہا ہے۔حکیم صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں میری بیعت کی خواہش کا ذکر کیا تو حضرت اقدس نے منظور فرمایا اور اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے کر صرف مجھ اکیلے ہی کو شرف بیعت عطا فرمایا۔میں نے حضرت مسیح موعود کو جیسا کہ خوابوں میں دیکھا تھا، آ کر بعینہ ویسا ہی پایا۔یہ خداوند تعالیٰ کی خاص موہبہت عظمی ہے جو کہ مجھ پر ہوئی ورنہ معلوم نہیں میری کیا حالت ہوتی اور میر انام اصحاب بدر میں نمبر اڑسٹھ یا انہتر پر جوکہ ضمیمہ انجام آتھم میں فہرست دی گئی ہے، لکھا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 5 صفحہ 38 تا 40 روایت حضرت کریم الدین صاحب) یہ انہتر نمبر ( 69 ) پر ان کا نام وہاں ہضمیمہ انجام آتھم میں لکھا گیا ہے۔پھر حضرت میاں اللہ دتہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے 1900ء میں بیعت کی اور 1905 ء میں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوئی۔کہتے ہیں میں ماہل پورضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہوں۔جس وقت چاند اور سورج کو گرہن لگا اُس وقت میری عمر قریباً دس بارہ برس تھی اور اُس وقت میں نے اپنے استاد کے ساتھ قرآن کریم اور نوافل بھی پڑھے تھے۔1897ء یا 1898 میں ہمارے گاؤں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر پہنچ گیا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں حضرت مہدی علیہ السلام آگئے ہیں۔یہ ذکر شیخ شہاب الدین صاحب کی معرفت پہنچا تھا۔دو تین سال با ہم تبادلہ خیالات ہوتا رہا سن 1900ء کے قریب اس عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں قادیان میں دیکھا۔اگر چہ میں خود قادیان نہیں آیا تھا۔اُس خواب سے میری تسلی ہو گئی۔پہلے قادیان کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن قادیان خواب میں دیکھا۔خواب سے تسلی ہوگئی ) اور سوچا کہ جتنی جلدی ہو سکے بیعت کر لوں۔کہتے ہیں میں ایک پیسے کا کارڈ لے کر قاضی شاہ دین صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ چونکہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کر لی ہے اور اُس کے متعلق تسلی ہوگئی ہے اس لئے میرا بیعت کا خط لکھ دو اور انگوٹھا لگوالو۔انہوں نے کہا کہ ابھی ٹھہر و، چند دن کے بعد بیعت کنندگان کی فہرست بنا کر بھیجیں گے۔کہتے ہیں جہاں تک مجھے علم ہے قریباً چالیس آدمیوں کی فہرست بنا کر بھیجی گئی جنہوں نے بیعت کی تھی جس میں میرا نام بھی تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 4 صفحہ 49 روایت حضرت میاں اللہ دتہ صاحب)