خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 749 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 749

خطبات مسرور جلد دہم 749 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء کہتے ہیں یہ خواب میں نے اپنے ایک دوست سید محمد علی شاہ صاحب کو سنائی۔اور انہوں نے کہا یونہی سر نہ کھاؤ۔لیکن جب میں صبح کی نماز پڑھ کر مسجد سے واپس آیا اور سورج نکل رہا تھا تو سید مولوی محمد علی شاہ صاحب مرحوم اور چوہدری نبی بخش صاحب کچھ الفاظ جو چوہدری صاحب نے کاغذ پر رات کو لکھے ہوئے تھے اور ادھر اُدھر اوپر نیچے تھے اور بے ترتیب تھے ، ان کو ترتیب دے رہے تھے۔( سید محمد علی شاہ صاحب نے ان سے تو یہی کہا کہ یونہی میرا دماغ نہ کھاؤ۔کوئی الہام شلہام نہیں ہوتا چو ہدری صاحب کو۔لیکن کہتے ہیں نماز سے میں واپس آ رہا تھا تو چوہدری نبی بخش صاحب بھی اور محمد علی شاہ صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔آپس میں ان کا تعلق تھا اور کچھ کاغذوں کو ترتیب دے رہے تھے۔تو کہتے ہیں مجھے شک پڑا کہ یہ رات کے کوئی الہامات ہیں یا ویسے الہامات ہیں جن کو ترتیب دے رہے ہیں )۔تو میں نے اُن سے کہا کہ تم تو کہتے تھے کہ سر نہ کھاؤ ( پہلے جب میں نے اس طرح بات کی تھی۔) اب بتاؤ یہ کیا بات ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ لوگ مذاق کرتے ہیں محول کرتے ہیں، اس واسطے اظہار نہیں کرتے۔کہتے ہیں اُسی وقت سے مجھے خیال آیا جبکہ حضور کے مریدین کو الہام ہوتے ہیں تو ضرور حضرت مسیح موعود سچے ہیں۔اُس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہوگی۔میں نے حضور کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی اور نہ ہی مجھے اس وقت تحقیق کا مادہ تھا کیونکہ میں بچہ ہی تھا اور دینی تعلیم بھی میری کوئی نہیں تھی۔صرف قرآن کریم ناظرہ بے ترجمہ پڑھا تھا اور اُس وقت میری دنیاوی تعلیم صرف نارمل پاس تھی۔(میرا خیال ہے آٹھویں پاس کہنا چاہتے ہیں) اور میں قلعہ صوبہ سنگھ میں نائب مدرس تھا۔پھر ایک خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ماہ کا تک( میرا خیال ہے ستمبر اکتوبر کا مہینہ ہے ) میں فوت ہو جاؤں گا۔میں انتظار کرتا رہا۔اب میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں ضرور کا تک میں ( پنجابی مہینہ ہے) فوت ہو جاؤں گا۔کیونکہ اس سے پہلے جو خوا ہیں مجھے آئیں وہ پوری ہو گئی تھیں، اس لئے مجھے یقین تھا کہ پہلی خوابیں پوری ہوتی رہی ہیں تو یہ بھی پوری ہوگی اور زیادہ سے زیادہ ستمبر اکتوبر تک میری زندگی ہے۔لیکن کہتے ہیں کا تک گزر گیا اور میں نے محمد علی شاہ صاحب مرحوم سے عرض کیا کہ آپ تو کتا بیں ہی پڑھتے رہیں گے اور آپ کی تسلی ہوگی۔محمد علی شاہ صاحب کا چوہدری نبی بخش صاحب کے ساتھ تعلق تھا، اُن کے الہامات کا بھی پتہ تھا کہ ہوتے ہیں لیکن انہوں نے شاید اُس وقت تک بیعت نہیں کی تھی۔لیکن بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے متاثر تھے اور آپ کی کتب پڑھا کرتے تھے۔تو کہتے ہیں میں نے اُن کو کہا آپ تو کتابیں پڑھتے رہیں گے اور پتہ نہیں آپ کی تسلی کب ہونی ہے لیکن میں تو آپ سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر آؤں گا )۔چنانچہ کہتے ہیں