خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 718 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 718

خطبات مسرور جلد دہم 718 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز اسروراحمد خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 رنومبر 2012 ء بمطابق 23 رنبوت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح_مورڈن۔لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج کل ہم جس اسلامی مہینہ سے گزر رہے ہیں اس مہینہ کا نام محرم الحرام ہے۔یہ ماہ اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے۔عام طور پر جب سال کا پہلا مہینہ آتا ہے، نیا سال شروع ہوتا ہے تو ہم ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔محرم بعض جگہوں پر جمعہ کو شروع ہوا ہے یا پھر جمعرات کو شروع ہوا ہے۔بہر حال جب میں گزشتہ جمعہ پر آنے لگا تو ایک صاحب باہر کھڑے تھے، انہوں نے مبارکباد دی۔لیکن مبارکباد کس چیز کی؟ کیونکہ اُسی دن عراق میں دھماکے ہوئے ، شیعوں پر حملے کئے گئے اور درجنوں شہید کر دیئے گئے۔سو ہم نئے سال کے شروع میں عموماً ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں لیکن جب قمری سال کا یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو مسلمان شرفاء کی اکثریت جن کو امت کا درد ہے، اس مہینہ کے آنے پر فکر اور خوف کا اظہار شروع کر دیتی ہے۔یہ کیوں ہے؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ دھما کے ہوتے ہیں قتل و غارت ہوتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ یہ اس لئے ہے کہ ان دنوں میں باوجود حکومتوں کے اعلانوں کے، باوجود مختلف فرقوں کے علماء کے مشترکہ بیانات کے، اعلانات کے یا تو شیعہ سنی فساد شروع ہو جاتے ہیں یا کہیں نہ کہیں کسی تعزیہ پر یا امام باڑے پر دوسرے فرقوں کی طرف سے یا شرارتی عنصر کی طرف سے حملہ ہو جاتا ہے اور اب تو مفاد پرست اور دہشتگر د دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر شیعوں کی مجالس یا مجمع پر حملہ کر کے درجنوں معصوموں کی جان لے لیتے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے مذہبی مقاصد نہیں ہیں یا مذہبی اختلاف نہیں ہے بلکہ سیاسی مقاصد ہوتے ہیں ، حکومتوں کو نا کام کرنا چاہتے ہیں۔عام طور پر دس محرم کو زیادہ خطرے کا دن ہوتا ہے جو مغربی ممالک میں تو کل ہے۔یہاں تو کوئی ایسا خطرہ نہیں لیکن مشرقی ممالک میں