خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 705
خطبات مسرور جلد دہم 705 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء قرآن کریم کی عظیم تعلیم کو اپنے ہم قوموں اور غیر قوموں تک پہنچانے کی خدمت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل سے نوازا۔اور یوں گھانا کا یہ باوفا مخلص سپوت خلفائے وقت کا سلطان نصیر بن کر جماعت احمد یہ گھانا کو بہت سے اعزازات سے نواز گیا۔حافظ جبرائیل سعید صاحب کی گزشتہ دنوں گھانا میں وفات ہوئی ہے۔إنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے بارے میں مزید کچھ تفاصیل ہیں وہ میں بیان کرتا ہوں۔مکرم حافظ احمد جبرائیل سعید صاحب گھانا میں مبلغ سلسلہ بھی تھے اور نائب امیر ثالث بھی تھے۔جیسا کہ میں نے کہا 9 نومبر 2012ء کو جمعتہ المبارک کے دن ان کی کور لیگو (Korlebo) ہسپتال اکرا میں ایک ماہ کی علالت کے بعد وفات ہوئی ہے۔اُس دن میں نے دعا کے لئے بھی اعلان کیا تھا لیکن اُس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔کافی عرصے سے بیمار تھے۔ان کی بیماری کے متعلق غانا کے ڈاکٹرز کی رپورٹ یہاں لندن اور امریکہ کے ڈاکٹر ز کو بھجوائی گئی تھی کیونکہ وہاں کے ڈاکٹروں کو بیماری کی تشخیص نہیں ہو رہی تھی۔اور ان ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق مزید ٹیسٹ لئے جانے کی کارروائی بھی زیر عمل تھی۔اسی طرح علاج کی غرض سے بیرون ملک لندن یا امریکہ بھجوانے پر بھی غور ہورہا تھا اور کارروائی ہو رہی تھی لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور ان کی اس دوران میں وفات ہو گئی۔مکرم حافظ صاحب دوفروری 1954ء میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب سوفو جبرائیل سعید صاحب غانا کے مبلغ تھے جنہوں نے وہیں مشنریز کے ذریعے سے مبلغ کی ٹریننگ لے کر میدانِ عمل میں کام کیا اور بڑے کامیاب مبلغ تھے۔حافظ احمد جبرائیل سعید صاحب 1970ء میں حفظ قرآنِ کریم کی غرض سے ربوہ گئے تھے اور مدرسۃ الحفظ میں داخلہ لیا۔آپ خدا کے فضل سے غانا کے پہلے حافظ قرآن تھے۔آپ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ایک موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت آپ سے کلائی پکڑنے کا مقابلہ بھی کیا تھا۔آپ قرآن مجید حفظ کر کے غانا آئے اور چند ماہ بعد پھر دوبارہ جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان واپس چلے گئے۔جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1982ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔اسی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان بھی پاس کیا۔آپ جب شاہد کا امتحان پاس کر کے گھانا آئے تو 15 ستمبر 1982ء کو آپ کی تقرری گھانا کے ایک شہر ٹیچی مان میں ہوئی جہاں آپ نے برا نگ ابا فوریجن کا چارج سنبھالا اور چار سال کے بعد پھر آپ کو نجی بھجوایا گیا جہاں لمبا سا میں آپ کا تقرر ہوا۔نجی سے اگست 1987ء میں آپ کو طوال بھجوایا گیا۔آپ طوالو کے پہلے با قاعدہ مبلغ مقرر ہوئے۔طوالو میں قیام کے دوران آپ نے ساؤتھ پیسفک کے تین جزائر ( جو ملک بھی ہیں)۔یعنی