خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 668
خطبات مسر در جلد دہم 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء خاص طور پر کچھ مولوی اس علاقہ میں اب نئے آئے ہیں جنہوں نے ان کے دشمنوں کو بھڑکا یا کہ ذاتی دشمنی کو اب جماعتی رنگ دو اور اب ان کو شہید بھی کر دو گے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا فوراً کہہ دینا کہ یہ کیونکہ قادیانی تھا اس لئے ہم نے مار دیا۔بہر حال 18 اکتوبر کو جمعرات کی نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد یہ کچھ دیر وہاں ڈیوٹی دینے والے خدام کے پاس بیٹھے رہے اور اُس کے بعد واپس گھر جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو بعض نامعلوم افراد نے پکڑ کر فائر کیا جس کے نتیجہ میں ان کی وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - جماعتی کاموں میں بہت فعال تھے۔انہوں نے چار سال قائد مجلس گھٹیالیاں کے فرائض سرانجام دیئے ہیں چھ سال تک ناظم عمومی گھٹیالیاں رہے اور آجکل بطور سیکرٹری امور عامہ گھٹیا لیاں خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انصار اللہ کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔جماعت کے لئے بڑی غیرت رکھنے والے تھے اور نظام جماعت کی اطاعت بھی ان میں خوب تھی۔خلافت سے محبت کرنے والے تھے۔ان میں بڑا جوش بھی تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان کے بچوں کو صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔یہ تو شہداء کا ذکر ہے۔اس کے علاوہ دو اور وفاتوں کا بھی اعلان کروں گا اور ان شہداء کے ساتھ ان کے جنازہ غائب بھی ادا کئے جائیں گے۔ان میں سے ایک سعودی عرب کے مکرم عبد الرحمن الجبالی صاحب ہیں۔نو مبائع تھے۔19اکتوبر کو ہارٹ اٹیک سے وفات پاگئے۔ان کی عمر 47 سال تھی۔انا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔2010ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ میں شامل ہوئے تھے۔بڑے خاموش طبع اور غور و فکر کے عادی تھے۔انہیں احمدیت کی ترقی پر کامل یقین تھا اور کہا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو اُن کے ملک میں بہت پذیرائی مل رہی ہے اور احمدیت ہی وہاں کے لوگوں کی واحد امید گاہ ہے۔مرحوم بچپن سے ہی سچائی کے متلاشی تھے۔ان کی زندگی میں عام لوگوں سے ہٹ کر بہت سے عجیب وغریب واقعات پیش آئے۔بال آخر انہیں احمدیت کی نعمت ملی جس پر ان کا ایمان بہت پختہ تھا۔گھر پر یا باہر ہر ملنے والے کو تبلیغ کرتے تھے۔گزشتہ دوسال سے کہا کرتے تھے کہ اب ان لوگوں کو تبلیغ کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب لوگ احمدیت کے بارے میں جانتے ہیں لیکن قبول کرنے کی جرات نہیں کرتے لہذا اب ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔2010ء میں جب یہ یہاں بھی آئے ہیں تو انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کیا تھا۔ان کے بارے میں سعودی عرب کے ہی ایک نو مبائع لکھتے ہیں کہ ہمارے بھائی عبدالرحمن کو کوئی بیماری نہ تھی۔