خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 651
خطبات مسرور جلد دہم 651 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء نہ تھا ؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! یہ تو بتلائیے کہ اس جگہ الوخی پر آل ( الف لام) کیسا ہے۔یہ آئی اُس وحی کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کرتی تھی۔اور حضور ہر روز اماں جان کو سنایا کرتے تھے۔پس وہ قرآنی اور شرعی وحی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کرتی تھی وہ یقینا بند ہوگئی تھی اور ہو چکی ہے۔اس سے یہ کہاں ثابت ہے کہ اس قسم کی وحی قیامت تک کے لئے بند ہے جبکہ آیات قرآنیہ میں نزول وحی بالتصریح موجود ہے۔مولوی صاحب اس پر ساکت ہو گئے اور آگے کوئی نیا سوال نہ کیا۔اکیس سوالوں میں سے بس ایک ہی سوال کیا اور بس پھر اُن کی تسلی ہو گئی) حضرت اقدس نے اس کے بعد پھر ایک بڑی مبسوط تقریر فرمائی۔( بڑی لمبی اور دلائل سے پر تقریر فرمائی ) جس سے اُن جملہ اعتراضات کا خود ہی حل فرما دیا جو کہ مولوی صاحب نوٹ کر کے لائے تھے۔(اب مولوی صاحب نے باقی سوال نہیں پوچھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کے بعد جو تقریر فرمائی اُس میں ان سارے سوالوں کے جواب آگئے کہ وہ جو نوٹ کر کے لائے تھے اور آپ کے ایک کھیسے میں ( یعنی جیب میں ) موجود تھے۔اس ملاقات سے پہلے (انہوں نے ان سوالوں کا) کسی سے ذکر بھی نہیں کیا تھا۔مولوی صاحب اُس وقت متعجب ہوئے اور سوچا کہ اگر اس شخص پر وحی کا نزول نہیں ہوتا تو آپ کو ان باتوں اور سوالات سے کس نے علم دیا جو آپ کے پاس لکھے ہوئے تھے ، ( یعنی جیب میں پڑے ہوئے تھے)۔جب یہ دیکھا کہ میرے تو سارے سوال جو میری جیب میں پڑے ہوئے ہیں، ان کا جواب بھی بغیر پوچھے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دے دیا تو تھوڑی دیر خاموش رہے۔پھر حضور کو عرض کی کہ حضور ہاتھ کریں۔میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔پس آپ نے اُسی وقت خدا کے فضل سے بیعت کی اور اس کے بعد آپ کو کبھی بھی کوئی اعتراض حضور کی ذات پر پیدا نہیں ہوا اور آپ کے ایمان اور عرفان میں دن بدن ترقی ہوتی گئی۔ازاں بعد حضرت خلیفہ اول کی بیعت میں بلا چون و چرا داخل ہو گئے۔خلافت ثانیہ میں بھی (حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بھی بیعت کی ) تب بھی کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذُلِكَ۔پھر یہ بیٹے لکھتے ہیں کہ آپ جس وقت بیعت کر کے واپس تشریف لے گئے تو دو آبہ باری اور چناب کے اکثر لوگ جو آپ کے معتقدین میں سے تھے ، ( اُس علاقے میں جہاں آپ رہتے تھے۔آپ کے معتقدین میں سے تھے ) اور پہلے اُن کا خیال تھا کہ اگر مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام