خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد دہم 649 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء نہیں ہوتا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو کسی نے نہیں بتایا تھا۔جبکہ بیسیوں آدمی حضور کے پاؤں وغیرہ دبایا کرتے تھے مگر یہ لفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نہیں فرمایا تھا جو اس وقت آپ نے فرمایا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔یہ کیسے خیال پیدا ہو گیا کہ اُس وقت دبانے والا امتحاناد با رہا ہے۔اور اس وقت یقینا تھا بھی امتحانی دبانا۔پس یہ ایک بین نشان تھا جو آپ نے اپنی آنکھوں۔دیکھا اور ایمانی تازگی حاصل کی۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِ مُحَمَّد۔پھر لکھتے ہیں کہ اس کے ނ بعد مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے چند سوالات ہیں اگر حکم ہو تو عرض کروں۔حضور نے اجازت فرمائی۔مولوی صاحب نے پہلا سوال پیش کیا جو مولوی صاحب اور حضرت اقدس کے کلام کا جو سلسلہ ہے اُسی طرح لکھا جاتا ہے۔مولوی صاحب پوچھتے ہیں کہ : حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حاضنہ (دائی) تھیں، (کھلانے والی تھیں ) حضرت ایمن جن کا نام تھا جن کو حضور روزانہ یا اکثر دفعہ آپ کے پاس پہنچ کر اپنی تازہ وحی سے مشرف فرمایا کرتے تھے جس سے آپ مسرور رہتی تھیں۔( وحی سن کے خوش ہوا کرتی تھیں) حتی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا انتقال ہو گیا اور حضرت ابوبکر صدیق جانشین مقرر ہوئے۔آپ بھی ایک دن والدہ صاحبہ سے یعنی اُم ایمن سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔تو والدہ صاحبہ رونے لگ گئیں۔آپ نے فرمایا کیا آپ اس لئے روتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔یہ سنت اللہ تھی جو پوری ہوئی۔اتاں جان نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس لئے روتی ہوں کہ انْقَطَعَتِ الْوَخی۔کہ آج وحی منقطع ہو گئی۔پس جب اماں جان صاحبہ انقطاع وحی کی قائل ہیں تو آپ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کے قائل ہو سکتے ہیں؟ یہ ان کا سوال تھا۔بڑی لمبی تمہید کے بعد یہ سوال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو انقطاع وحی ہو چکا ہے تو اب کس طرح وحی ہو سکتی ہے؟ آپ کہتے ہیں مجھے وحی ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا آپ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کے ماتحت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ امت خیر امت ہے۔مولوی صاحب نے کہا: ہاں میں مانتا ہوں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ کیا آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آیت أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِثِينَ (المائده: 112)، وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمّ موسى (القصص: 8)، وأوحى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (النحل : 69) کے ماتحت مسیح کے حواریوں اور موسیٰ کی والدہ اور شہد کی مکھیوں وغیرہ کو وحی الہی ہوئی اور ہوتی ہے۔مولوی صاحب نے کہا ہاں ضرور ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔