خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 639
خطبات مسرور جلد و هم 639 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء رات کو کیا کھانا کھایا تھا ؟ ) نبض بہت تیز چل رہی ہے۔میں نے کہا کچھ نہیں۔آپ درس کو چھوڑ کر جلدی سے گھر گئے اور گھر جاکے اپنی اہلیہ سے دریافت فرمایا کہ رات عطاء اللہ نے کیا کھا یا تھا۔انہوں نے کہا کہ کھانا کھانے کے بعد اس نے ضد کر کے تھوڑ اسا شور بہ پی لیا تھا۔تو اُن پر ناراض ہوئے اور میرے پر بھی کہ تم نے اس قدر دروغگوئی کی ہے۔غلط بیانی سے کام لیا ہے۔بہر حال کہتے ہیں حضرت مولوی صاحب نے میرے اس جھوٹ کو اور بد پرہیزی کا جو قصہ ہے یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عرض کیا کہ اس کو اپنی صحت کا کچھ خیال نہیں ہے۔مرض تپ دق میں مبتلا ہے ( یعنی ٹی بی میں مبتلا ہے )۔میں بباعث بیماری کے بہت کمزور ہو گیا تھا۔( تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس بات پر بڑے ناراض ہوئے۔کہتے ہیں آخر میری رخصت دو ماہ ختم ہوگئی۔حضرت مولوی صاحب کو میری صحت کا بہت فکر تھا۔ادویہ وغیرہ بنا کر ہمراہ دے دیں تائیں استعمال کروں۔اور فرمایا میں دعا بھی کروں گا۔حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور! آج میں راولپنڈی واپس جاتا ہوں کیونکہ رخصت ختم ہو گئی ہے۔دعا کریں۔صحت خراب ہے۔حضور نے دعا فرمائی اور فرمایا کہ آپ نمازوں میں نہایت عاجزی، انکساری اور دل سوزی سے دعائیں کیا کریں اور خط وغیرہ قادیان تحریر کرتے رہا کریں اور جلدی جلدی آیا کریں۔پھر فرمایا کہ بد پرہیزی کو چھوڑ دیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ بات یاد تھی کہ کھانے میں بد پر ہیزی کی تھی اس لئے فرمایا کہ بد پر ہیزی کو چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور پختہ وعدہ کریں۔خدا تعالیٰ غفور الرحیم ہے انشاء اللہ ضرور صحت بخشے گا۔کہتے ہیں جب میں راولپنڈی واپس گیا تو رات ڈیڑھ بجے کے قریب ایک رؤیا غیر زبان میں اس عاجز کو ہوئی جس کو میں نہ سمجھ سکا۔حیران ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گر گیا اور التجا کی کہ اے خدا! تیری ذات ہر زبان پر قدرت رکھتی ہے۔مجھے اس خواب کا مفہوم سمجھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت فرماتے ہوئے رات کے اڑھائی بجے کے قریب میری زبان پر جاری کر دیا کہ ہیلدی ہیلدی ہیلدی (Healthy-healthy-healthy)۔اس کئی بار کی آواز نے مجھے بیدار کر دیا کہ صحت ہو گئی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اب تک مجھے بیس برس ہو گئے ہیں (جب یہ بیان کیا تھا۔کبھی سر درد سے بھی بیمار نہیں ہوا۔اور دیگر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہر امر میں کچھ ایسے سامان مہیا کئے گئے کہ اولاد پیدا ہونا شروع ہوگئی۔( پہلے اولاد نہیں تھی۔) پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین لڑکے اور چارلڑکیاں عطا کی گئیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹ نمبر 1 صفحہ 165 تا 167۔روایات حضرت شیخ عطاء اللہ صاحب) پھر ایک صحابی ہیں حضرت ملک برکت اللہ صاحب پسر حضرت ملک نیاز محمد صاحب۔