خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 613 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 613

خطبات مسرور جلد دہم 613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5اکتوبر 2012ء سے سامنا تھا۔اپریل میں اس سال ارد گرد کے مخالف دوکانداروں نے ان کے مالک دوکان سے، جس سے کرائے پر دوکان لی ہوئی تھی، کہا کہ اس کی دوکان خالی کرواؤ لیکن مالک نے انکار کر دیا۔پھر مختلف طریقوں سے ان کو تنگ کیا جاتا رہا۔ان کی دوکان کے تالے میں کبھی پیٹھی ڈال دیتے تھے یا سیل کر دیتے ، جلوس نکالتے تو توڑ پھوڑ ہوتی تھی۔بہر حال جو کوششیں تنگ کرنے کی ہوتی تھیں، کرتے رہے لیکن یہ بھی استقامت سے ڈٹے رہے اور اپنے کاروبار کو جاری رکھا۔سادگی ان میں بے تحاشا تھی۔مالی کشائش کے باوجود چھوٹے موٹے کام کرنے ہوں تو سائیکل کا استعمال کیا کرتے تھے۔کسی بھی جماعتی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے اور بڑے نیک نفس انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرمہ صاحبزادی امتہ السمیع صاحبہ کا ہے جو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی بیٹی اور مکرم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کی بیگم تھیں۔یہ 3 را کتوبر کو صبح دس بجے ربوہ میں وفات پاگئی ہیں۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ 1937ء میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم قادیان سے حاصل کی۔پھر پاکستان آ کے میٹرک کیا۔( یہیں آ کے میٹرک کیا ہے۔پارٹیشن سے پہلے تو نہیں کیا ہو گا)۔1952ء میں آپ کا نکاح حضرت مصلح موعود نے اپنے بیٹے مکرم مرز رفیع احمد صاحب کے ساتھ پڑھایا اور دسمبر 1953ء میں ان کا رخصتانہ عمل میں آیا۔رخصتانے کے بارے میں (آجکل تو بڑا شور شرابا ہوتا ہے اور رسم و رواج بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں) انہوں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میری شادی عجیب حالت میں ہوئی ہے کہ جلسہ سالانہ کے دن تھے۔28 دسمبر کو جلسہ کے آخری دن شادی ہوئی۔جلسہ کے دنوں میں ادھر ہی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔کوئی پروگرام شادی کا نہیں تھا۔ڈیوٹی دے کر آئیں تو ان کی اتاں نے کہا کہ صبح تمہاری شادی ہے۔کہتی ہیں اُس وقت میرے ہاتھ کالے تھے کیونکہ جلسہ کی ڈیوٹی کی وجہ سے دیگیں دھو کر آ رہی تھیں۔تو لڑکیوں نے مل کے میرے ہاتھ دھوئے ، سیاہی دور کی اور اگلے روز بغیر کسی مہندی وغیرہ کے شادی ہوگئی۔1991ء میں لندن میں آپ کا بائی پاس آپریشن ہوا تھا۔بڑی صابر تھیں جس ڈاکٹر نے آپریشن کیا تھا اُس نے بھی آپ کے صبر کو دیکھ کر کہا کہ میں نے اس وقت اپنا Best Patient دیکھا ہے۔اس کا تمہیں ایوارڈ دیتا ہوں کہ اتنا صبر میں نے کسی Patient میں نہیں دیکھا۔اس سے پہلے ان کو کینسر بھی ہوا تھا۔ہر بیماری کو بڑے صبر اور ہمت اور حو صلے سے انہوں نے برداشت کیا۔جلسہ سالانہ میں مہمانوں کی خاص طور پر بہت خدمت کیا کرتی تھیں۔مہمانوں سے ان کا گھر بھرارہتا تھا۔باوجود مہمانوں کے