خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 601
خطبات مسرور جلد دہم 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء آپ کی جنگی فتوحات نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اندر نہ تو تکبر پیدا کیا، نہ کوئی غرور اور نہ کسی قسم کی مصنوعی شان وشوکت پیدا کی۔اگر ان فتوحات میں ذاتی اغراض ہوتیں تو یہ ضرور ایسا کرتیں۔اپنی طاقت کے جو بن پر بھی اپنی عادات اور حلیہ میں وہی سادگی برقرار رکھی جو کہ آپ کے اندر مشکل ترین حالات میں تھی۔یہاں تک کہ اپنی شاہانہ زندگی میں بھی اگر کوئی آپ کے کمرہ میں داخل ہوتے وقت غیر ضروری تعظیم کا اظہار کرتا تو آپ اسے ناپسند فرماتے۔“ (Life of Mahomet by Washington Irving, London Henery G۔Bohn, York Street, Covent Garden 1850۔Page:199) پھر سرولیم میور (Sir William Muir) یہ بھی ایک مستشرق ہے اور کافی کچھ خلاف بھی لکھتا ہے۔یہ بھی لکھتا ہے کہ: ”اپنا ہر ایک کام مکمل کرتے اور کسی چیز پر اُس وقت تک ہاتھ نہ ڈالتے جب تک وہ آپ کے بالکل سامنے پڑی نہ ہوتی۔معاشرتی میل جول میں بھی آپ کا یہی طریق رہتا۔جب آپ کسی کے ساتھ بات کرنے کے لئے اپنا رخ موڑتے تو آپ آدھا نہ مڑتے بلکہ پورا چہرہ اور پورا جسم اُس شخص کی طرف پھیر لیتے۔کسی سے مصافحہ کرتے وقت آپ اپنا ہاتھ پہلے نہ کھینچتے۔اسی طرح کسی اجنبی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے درمیان میں نہ چھوڑتے اور اگلے شخص کی بات پوری سنتے۔آپ کی زندگی پر آپ کی خاندانی سادگی غالب تھی۔آپ کو ہر کام خود کرنے کی عادت تھی۔جب بھی آپ صدقہ دیتے تو سوالی کو اپنے ہاتھ سے دیتے۔گھر یلو کام کاج میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے۔پھر لکھتا ہے : ” آپ تک ہر کس و ناکس کی پہنچ ہوتی جیسے دریا کی پہنچ کنارے تک ہوتی ہے۔باہر سے آئے ہوئے وفود کو عزت و احترام سے خوش آمدید کہتے۔ان وفود کی آمد اور دیگر حکومتی معاملات کے متعلق تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اندر ایک قابل حکمران کی تمام صلاحیتیں موجود تھیں۔سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے۔“ " (The Life of Mahomet by by William Muir, London: Smith, Elder and Co۔15 Waterloo Place 1878 pp۔524-525) پھر یہی ولیم میور لکھتا ہے کہ : ایک اہم خوبی وہ خوش خلقی اور وہ خیال تھا جو آپ اپنے معمولی سے معمولی پیروکار کا رکھا کرتے۔حیا، شفقت، صبر ، سخاوت، عاجزی آپ کے اخلاق کے نمایاں پہلو تھے