خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 583

خطبات مسرور جلد دہم اور کیا ہونا چاہئے۔583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اُس کی تائید تھی کہ اس طرح کو ریج ہوئی ورنہ اگر ہم اپنی کوشش بھی کرتے تو صحیح اسلامی مؤقف جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے، دنیا کو اس کا پتہ نہ چلتا، یا ہم وسیع طور پر دنیا تک نہ پہنچا سکتے۔اب اس کو آگے بڑھانا، اس کو ریج سے فائدہ اُٹھانا ہر جگہ کی جماعت کا اور ہر احمدی کا کام ہے۔جہاں تک مرکز کی طرف سے اس بارے میں کوشش کی ہدایت اور طریقہ کار کا سوال ہے میں نے خطبہ کے حوالے سے اس کی اشاعت کی ہدایت تو کر دی ہے، بہر حال یہ ہدایت اور طریق جو بھی دفتر کی طرف سے جماعتوں کو اور افراد کو ان کی جماعتوں کی طرف سے پہنچے گا، وہ تو ہوسکتا ہے چاہے چند دن ہی سہی کچھ وقت لے لے۔لیکن تمام احمدی جو میری بات سن رہے ہیں، اُن کو چاہئے کہ اس موقع سے جو اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمایا ہے، ایک تو جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں کہا تھا، اپنے عمل سے دنیا کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کریں۔لیکن ساتھ ہی متعلقہ مرکزی دفتر بھی جیسا کہ میں نے کہا اور جماعتیں بھی فوری توجہ دیتے ہوئے خطبہ کا اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کر کے وسیع طور پر شائع کریں اور پریس کے حوالے سے بھی ذکر کریں، اور ہر ذی شعور تک اسلامی مؤقف کو پہنچائیں۔مختصر سا خطبہ تھا۔نیز اس میں یہ بھی درج ہو کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسین پہلوؤں کو دیکھنا ہے تو حقائق اور تاریخ کی روشنی میں تمہیں ہم لٹریچر بھی مہیا کرتے ہیں، کتب بھی مہیا کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔اسی طرح ہماری ویب سائٹ ہے اور مختلف جماعتوں کی بھی ہیں اُن کا بھی پتہ دیں، مرکزی ویب سائٹ کا پتہ دیں جس میں یہ لٹریچر موجود ہو۔اس بارے میں جیسا کہ میں نے کہا پہلے بھی میں ہدایت دے رہا تھا اور دے چکا ہوں، بعض لوگوں نے اپنے مشورے بھی دیئے ہیں کہ اس خطبہ کے حوالے سے اور پریس کے ساتھ سوال وجواب کے حوالے سے دنیا میں جو جماعت کے موقف کی جو تشہیر ہوئی ہے، اُس کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسین پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی بھر پور کوشش ہونی چاہئے اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اپنے علاقے کی لائبریریوں میں بھی مثلاً یورپ میں یا انگلستان میں یا انگریزی بولنے والے ملکوں میں سیرت سے متعلق جماعت کی کتب رکھوانی چاہئیں جن کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔نیز اگر کسی طبقے کو مفت بھی مہیا کرنی پڑیں کو کی جاسکتی ہیں ، خاص طور پر وہ کتب جیسا کہ میں نے کہا جن کا انگلش ترجمہ ہو چکا ہے یا کسی اور زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے، ان کو کثرت سے پھیلایا جائے۔مثلاً حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ