خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 577

خطبات مسرور جلد دہم 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء اور انہوں نے ان تینوں نوجوانوں پر کلاشنکوف اور رپیٹر سے فائرنگ کر دی۔کلاشنکوف سے نکلی دو گولیاں عزیزم نوید احمد کے پیٹ میں لگیں جبکہ دوسرے دونوں نوجوانوں کو بھی گولیاں لگیں جس سے یہ تینوں زخمی ہو گئے۔انہیں فوری ہسپتال لے جایا گیا لیکن نوید احمد ہسپتال جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑے سادہ مزاج، سادہ طبیعت کے مالک تھے۔نرم مزاج تھے۔نرم خو تھے۔ہمدرد تھے۔اطاعت گزار تھے۔عاجزانہ عادات کے مالک تھے۔پڑھائی کا شوق تھا لیکن غربت کی وجہ سے مڈل کے بعد پڑھائی نہیں کر سکے۔اپنے والد کے ساتھ کام کرتے تھے تو پھر اس کام کے دوران ہی انہوں نے میٹرک کا امتحان بھی پرائیویٹ طور پر پاس کیا۔اس رمضان میں بھی خود خدام الاحمدیہ کی ڈیوٹی میں اپنے آپ کو پیش کیا۔اکثر خود پیش کیا کرتے تھے اور بڑے احسن رنگ میں ڈیوٹیاں سرانجام دیتے تھے۔جہاں یہ کام کرتے تھے ، وہاں ساتھی افسران بھی آپ کے اخلاق اور ایمانداری سے بہت متاثر تھے۔آپ کی نماز جنازہ پر بھی دفتر سے کئی افراد نے شرکت کی۔نیز آپ کے ادارہ کے مالکان اور اُس کی فیملی کے ممبران آپ کے گھر تعزیت کی غرض سے آئے۔اُن کے والدین دونوں زندہ ہیں اور دو بھائی ہیں اور دو بہنیں ہیں۔دوسرا جنازہ مکرم محمد احمد صدیقی صاحب ابن مکرم ریاض احمد صاحب صدیقی شہید کا ہے جن کی اگلے دن ہی 15 ستمبر کو کراچی میں شہادت ہوئی۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جو ہے، شہادتیں جو ہیں ، بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔اُن کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ کراچی کے احمدیوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔آجکل سب سے زیادہ ٹارگٹ کر کے جو شہادتیں کی جارہی ہیں وہ کراچی میں ہیں اور بعض حکومتی اداروں کی طرف سے جو زیادتیاں کی جارہی ہیں وہ پنجاب میں ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر احمدی کو محفوظ رکھے۔محمد احمد صدیقی صاحب شہید کے خاندان کا تعلق کراچی سے ہے۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے بھائی عمران صدیقی صاحب کی بیعت سے ہوا جو 2001ء میں امریکہ میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے۔اس کے بعد عمران صدیقی صاحب کی تبلیغ سے آپ کے دیگر دو بھائیوں کی بھی بیعت ہوئی۔عمیر صدیقی اور رضوان صدیقی۔اس کے بعد بشمول والدین کے پورا خاندان بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ 15 ستمبر 2012ء کو ہفتہ کی رات تقریباً بارہ بجے عزیزم محمد احمد صدیقی اپنے بہنوئی مکرم ملک شمس فخری صاحب کے ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹل سٹور "السلام سپر سٹور‘ واقع گلستان جوہر سے موٹر سائیکل پر نکلے۔ابھی کچھ ہی آگے گئے تھے کہ اُن پر شدید فائرنگ کی گئی