خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد دہم 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء ہنگری میں مشن خلافت ثانیہ میں قائم ہوا تھا، جو بعض حالات کی وجہ سے پھر ختم کرنا پڑا تھا۔تو کہتے ہیں کہ نئے دور میں وہاں رابطے ہوئے ہیں اور سب سے پہلا پھل جو اس دور کا ہے وہ ہنگری کے مخلوص زُلائی ہیں، جو خود انگلستان تشریف لائے تھے۔ہمارے ایک رشین احمدی دوست را ویل صاحب چونکہ علمی طبقوں میں بہت شہرت رکھتے ہیں اس لحاظ سے اُن کے ساتھ بھی مخلوص زُلا ئی صاحب کے تعلقات تھے ، وہ ان کو بار بار مسجد لانے لگے اور چند ملاقاتوں میں ہی میں نے دیکھا کہ ان کے دل کی کیفیت بدل رہی ہے اور ( پھر وہ ) خدا کے فضل سے یہاں سے بیعت کر کے گئے۔اب واپس جا کر انہوں نے وہاں ہنگری میں مزید تبلیغ کی بنیادیں استوار کیں۔اور راویل صاحب نے جو وہاں گزشتہ دورہ کیا ہے اس کے نتیجے میں اب وہاں جماعتیں خدا کے فضل سے مستحکم ہو گئی ہیں اور وہاں جو آثار ظاہر ہورہے ہیں اُس سے امید ہے اب وہاں جماعت کو جلد فروغ نصیب ہوگا۔تاتارستان میں جو برادرم را ویل کا اصل وطن ہے، وہاں سے دو تین سال پہلے مُرات ضیائوف صاحب جلسہ یو کے پر تشریف لائے تھے اور یہ ثابت قدم رہے اور وفادار ثابت ہوئے۔پس جا کر انہوں نے رابطہ رکھا اور اپنے آپ کو احمدی قرار دیتے رہے۔اُن کی بیٹی نے بھی بہت ہی اخلاص کے ساتھ جماعت سے تعلق رکھا اور ایک دوسرے کے ایمان کو یہ تقویت دیتے رہے۔پھر فرماتے ہیں کہ احمدیت کو قبول کرنا ان قوموں کے لئے اتنا آسان نہیں جو ستر سال دہریت کے زہر سے مسموم رہے۔اس کے نتیجے میں باوجود اس کے کہ اسلام سے تعلق ٹوٹا نہیں اور اسلامیت کا شعور اُن کے دلوں میں قائم رہا۔لیکن عملاً اسلام کی تفاصیل سے کچھ آگا ہی نہیں تھی اور بحیثیت مسلم نیشن کے تو اسلام کے اندر رہے لیکن بحیثیت مذہب اسلام کے یہ عملاً اسلام سے باہر ہی رہے۔ان کو دوبارہ اسلام میں داخل کرنا اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور حقانیت کا یقین دلوں میں جاگزین کرنا محنت طلب ہے اور دعاؤں کا محتاج ہے اور اعجاز کا منتظر ہے۔اس لئے دعائیں کریں۔ہم جس حد تک محنت ہے کر رہے ہیں، دعا ئیں بھی کرتے ہیں ، ساری جماعت دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اعجازی نشان دکھائے کیونکہ درحقیقت روحانی انقلابات کے لئے دعاؤں سے بہت بڑھ کر اعجاز کی نشان کام آتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ آپ پیدائشی احمدی تو نہیں تھے لیکن اُن کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا تھا کہ گویا وہ ہمیشہ سے ہی احمدی تھے۔وہ صحیح معنوں میں احمدیت کے ایک سفیر تھے۔جہاں بھی جاتے جماعت کا ذکر ضرور کرتے۔جہاں ان کو خدشہ ہوتا کہ جماعت کے نام سے ری ایکشن ممکن ہے تو وہاں حکمت کے ساتھ اسلام کا پیغام دیتے اور جماعتی تعلیمات بیان کرتے۔لوگ جب پوچھتے کہ یہ کن کے عقائد ہیں تو جماعت کا