خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 51
خطبات مسرور جلد دہم 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء ہوا تھا۔یہ تا تارقوم پر تحقیق کے سلسلے میں لندن آئے تو یہیں ان کا رابطہ ہوا۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقاتوں کے نتیجے میں احمدیت میں داخل ہوئے۔راویل صاحب ایک جگہ خود بیان کرتے ہیں کہ اگر چہ میں پیدائشی مسلمان ہوں لیکن دہر یہ معاشرہ کے باعث 1989 ء تک اسلام کے بارے میں علم نہ ہونے کے برابر تھا۔جس معاشرے میں میری پرورش ہوئی اُس زمانے میں اسلام اور ہماری مادری زبان تا تاری پر مکمل پابندی تھی۔تاتاری زبان بولنے پر بھی پابندی تھی۔تا تاری زبان تدریسی نصاب سے بھی نکال دی گئی تھی۔لیکن تاتاریوں میں اسلامی اثر قائم تھا۔چاہے وہ پارٹی ورکر ہوں یا سکول کے اساتذہ ہوں ہر کام سے پہلے بسم اللہ ضرور کہتے تھے۔تاتاری ثقافت جو کہ ایک ہزار سال پرانی ہے۔اس پر ہمیشہ سے اسلام کا اثر رہا ہے۔اس لئے دہریت کا جوز ور میرے والدین کے زمانے میں تھا، میری پرورش کے دوران وہ قدرے کم تھا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں چھپا ہوا مسلمان تھا جسے ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ وہ کسی طرح موقع پا کر مسجد جائے اور نمازیں ادا کرے۔ایسا بالکل نہ تھا۔میں ایک طالبعلم تھا۔میں نوجوان تھا اور اس معاشرے کے مطابق جو بات میرے ذہن میں آتی وہ کرتا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ 1989ء میں حالات بہتر ہوئے۔مذہب سمیت ہر قسم کی آزادی ملنا شروع ہوئی لیکن بچے مذہب تک پہنچنے کے لئے میں یہ جانتا تھا کہ مذہب کا عرفان صرف عقلی دلائل کی بنا پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ایمان کی نعمت خدا خود عطا کرتا ہے۔میں ایک شش و پنج میں مبتلا تھا۔عقلی طور پر میں سمجھ چکا تھا کہ یہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے جو کہ بہترین تعلیم دیتا ہے لیکن اس کے باوجود میری روح بالکل خالی تھی اور واحد چیز جس نے مجھے ان شکوک و شبہات سے نجات دلائی وہ چند افراد تھے جو مجھے لندن میں ملے، جنہیں اب میں سچا اور حقیقی مسلمان سمجھتا ہوں اور یہ وہ جماعت تھی جو کہ عالم اسلام میں ملحد سمجھے جاتے ہیں یعنی احمد یہ مسلم جماعت۔پھر لکھتے ہیں کہ احمد یہ جماعت کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی اُس وقت تک خدا کی محبت حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ خدا کی مخلوق سے محبت نہیں کرتا۔یہ جانتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ یہی میری منزل ہے۔یہاں مجھے سب کچھ اکٹھامل گیا یعنی میری تعلیم علم اور عقل عقلی دلائل کے لئے میری پیاس۔بچے مذہب کی تلاش اور روحانی تجربات سب کچھ ایک ہی جگہ مل گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1993ء کے جلسہ کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ اب اس نئے دور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ ہنگری میں رابطے مکمل ہوئے ہیں“۔پہلے