خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 573 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 573

خطبات مسر در جلد دہم 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء پھر یہ جو پادری ہیں جیسا کہ میں نے کہا تاریخ اور حقائق سے بالکل ہی نابلد ہیں۔جو مستشرقین ہیں وہ قرآن کے بارے میں اس بحث میں ہمیشہ پڑے رہے کہ یہ سورۃ کہاں اتری اور وہ سورۃ کہاں اُتری۔مدینہ میں نازل ہوئی یا مکہ میں؟ اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اُس نے لکھ کر دے دیا تھا۔اور قرآن کریم کا تو اپنا چیلنج ہے کہ اگر سمجھتے ہو کہ لکھ کر دے دیا تو پھر اس جیسی ایک سورۃ ہی لا کر دکھاؤ۔پھر جذبات کے احترام کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ثانی نہیں۔باوجود اس علم کے کہ آپ سب نبیوں سے افضل ہیں، یہودی کے جذبات کے احترام کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔(صحیح البخارى كتاب فى الخصومات باب ما يذكر في الاشخاص والخصومة۔۔۔حديث نمبر (2411 غرباء کے جذبات کا خیال ہے اور اُن کے مقام کی اس طرح آپ نے عزت فرمائی کہ ایک دفعہ آپ کے ایک صحابی جو مالدار تھے وہ دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زورِ بازو سے ملے ہیں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔تمہاری قومی طاقت اور مال کی طاقت سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد و السير باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب - حدیث 2896) آزادی کے یہ دعویدار، آج غرباء کے حقوق قائم کرتے ہیں۔اُن کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوشش کرتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کہہ کر یہ حقوق قائم فرما دیئے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔(سنن ابن ماجه كتاب الرهون باب اجر الأجراء حدیث نمبر (2443 پس یہ اُس محسنِ انسانیت کا کہاں کہاں مقابلہ کریں گے۔بیشمار واقعات ہیں۔ہر پہلو خلق کا آپ لے لیں، اس کے اعلیٰ نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نظر آئیں گے۔پھر اور نہیں تو یہی الزام لگا دیا کہ نعوذ باللہ آپ کو عورتیں بڑی پسند تھیں۔شادیوں پر اعتراض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا رڈ بھی فرمایا۔اسے پتہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے ہیں، ایسے سوال اُٹھنے ہیں تو وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا تھا کہ اُن باتوں کا رڈ بھی سامنے آگیا۔اسماء بنت نعمان بن ابی جون کے بارے میں آتا ہے کہ عرب کی خوبصورت عورتوں میں سے تھیں۔