خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 560

خطبات مسر در جلد دہم 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء مسلم امتہ کو بھی عقل دے کہ یہ بھی اُس تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے ہوں جو اللہ اور اُس کے رسول نے ہمیں بتائی ہے۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک تو جنازہ حاضر ہے جو مکرم ماسٹر ملک محمد اعظم صاحب کا ہے جو تعلیم الاسلام سکول کے ریٹائرڈ ٹیچر تھے۔آجکل شیفیلڈ میں تھے۔تہتر سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اپنے رشتے کے چا کی تبلیغ کی وجہ سے بڑی تحقیق کر کے انہوں نے 1960ء میں احمدیت قبول کی اور پھر بجائے سرکاری نوکری کرنے کے کوشش کر کے ربوہ میں شفٹ ہوئے تا کہ جماعت کے سکول میں ملازمت کریں۔پہلے جماعت کے پرائمری سکول میں رہے پھر ہائی سکول میں بطور استا در ہے۔بہت نیک، دعا گو، تہجد گزار مخلص فدائی احمدی تھے۔مختلف جماعتی عہدوں پر انہوں نے خدمت کی توفیق پائی ہے اور اس وقت بھی چند سالوں سے شیفیلڈ میں آئے ہوئے تھے اور وہاں سیکرٹری وصایا تھے۔تبلیغ کا بھی شوق تھا۔ان کی والدہ اور بھائی بھی انہی کی تبلیغ سے احمدی ہوئے تھے۔ربوہ کے ارد گرد بھی تبلیغ کے لئے جاتے تھے اور اللہ کے فضل سے کئی پھل انہوں نے حاصل کئے تبلیغ کی وجہ سے ان کو مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے بری فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بھی گہرا مطالعہ تھا۔کہتے ہیں کہ جو ضرورت کے حوالے ہوتے تھے وہ زبانی یاد تھے۔خلافت کے ساتھ محبت و عقیدت کا تعلق تھا۔تین بیٹے اور دو بیٹیاں ان کی یادگار ہیں۔ان کے ایک بھائی مکرم ملک محمد اکرم صاحب مانچسٹر میں ہمارے مبلغ سلسلہ ہیں۔دوسرا جنازہ مکرم محمد نواز صاحب این مکرم احمد علی صاحب کا ہے۔نواز صاحب کے والد احمد علی صاحب نے 1950ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ان پڑھ تھے لیکن بڑے فدائی تھے اور بڑے مخلص تھے۔محمد نواز صاحب پولیس میں بطور کانسٹیبل ڈیوٹی دیا کرتے تھے اور جماعت سے بھی ان کا اور بچوں کا کافی تعلق ہے۔گزشتہ روز یہ کراچی میں اپنی ڈیوٹی پر تھے اور موٹر سائیکل پر ڈیوٹی سے جار ہے تھے کہ نامعلوم دو موٹر سائیکل سواروں نے آپ پر فائرنگ کر دی۔سر میں گولیاں لگیں جس سے موقع پر شہادت ہوگئی۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - غالب خیال یہی ہے کہ جماعت کی مخالفت کی وجہ سے یہ ہوا ہے۔اللہ ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔محکمہ کے ساتھی بھی ان کے کام کی تعریف کیا کرتے تھے۔ان کے دو بیٹے ، اہلیہ اور تین بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند کرے۔