خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 547
خطبات مسر در جلد دہم 547 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء جَزَاكَ الله قادر، جَزَاكَ الله قادر۔یعنی ان کے بیٹے قادر نے بڑا مقام دلا دیا ہے کہ شہید کی ماں کہلائی ہیں اور ان کی خواہش پوری ہو گئی۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ان کے خاوند مکرم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب بھی بیمار ہیں اور بوڑھے بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کی اولا د کو جیسا کہ میں نے کہا ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک جنازہ جو اس وقت ادا کیا جائے گا وہ مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب سابق امیر ضلع بہاولپور کا ہے۔مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب، چوہدری نور محمد صاحب جو ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔اُن کے بیٹے تھے۔1933ء میں پیدا ہوئے اور 28 راگست کو ان کا انتقال ہوا۔بی ایس سی سول انجینئر نگ کے بعد یہ محکمہ نہر میں ملازم ہوئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے 65ء سے 67 ء تک بطور قائد خدام الاحمدیہ ضلع رحیم یار خان پھر 75 ء سے 80ء تک صدر جماعت احمد یہ اور 83 ء سے 2004ء تک امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع بہاولپور خدمت کی توفیق پائی۔2004ء میں ہجرت کر کے ربوہ آگئے۔ان کو وہاں 74ء میں مخالفین کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ان کی ڈائری کا ایک ورق ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ 1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف سارے پاکستان میں شدید مخالفت شروع ہوگئی۔ان دنوں میں بہاولپور میں چھوٹے بھائی بشیر صاحب کے پٹرول پمپ کی دیکھ بھال کر رہا تھا، کیونکہ بشیر صاحب آپریشن کی وجہ سے بیمار تھے اور 74 ء کے فسادات کی وجہ سے مولویوں نے وہاں پکٹنگ (Picting) کر دی تھی اور کسی کو پٹرول پمپ میں آنے نہیں دیتے تھے۔کفن پوش نو جوانوں کی لائن آگے، پٹرول پمپ کے راستوں پر کھڑی کر دی تھی۔وہاں ایک احمدی نوجوان پٹرول ڈلوانے کے لئے آیا تو اُس کا موٹر سائیکل لے کر جلا دیا۔ان پر بڑا ظلم کیا۔تیل وغیرہ پھینکا، گالیاں دیتے تھے اور ظلم کئے۔بہر حال اس لحاظ سے بھی ان کو یہ تکالیف برداشت کرنے کی بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ آخری وقت تک جماعتی خدمات بجالاتے رہے۔کیونکہ ان کو قضا میں قاضی مقرر کیا گیا تھا، شدید بیماری کے باوجود قضا کا آخری فیصلہ لکھا اور اس کو دھاگہ سے باندھ کر مجھ کو دیا اور تاکید فرمائی کہ اسے کوئی نہ پڑھے اور دفتر قضا میں بھجوا دینا۔آخری بیماری میں بہت زیادہ تکلیف تھی اور بولنا بھی مشکل تھا۔میں نے آپ سے کہا کہ بہت زیادہ بیمار ہیں ، حضرت صاحب کو لکھ دیں کہ میں اب بیماری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتا۔تو انہوں نے کہا کہ مجھے انہوں نے مقرر فرمایا ہے۔جب تک دم ہے کرتا رہوں گا۔