خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 546
خطبات مسر در جلد دہم 546 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012ء کہتی ہیں کہ یہ اشعار شاید وزن اور بحر سے خالی ہوں مگر میرے دل کے جذبات سے پر ہیں۔جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ نثر میں کچھ یوں ہے (کہ) اے خدا! ہمیشہ میری دعا رہی ہے کہ میری گود کے پالے تجھ پر نثار ہوں۔اے خدا! جب وقت آئے تو فکر فردا انہیں سرفروشی سے باز نہ رکھے۔میرے رب! تیرا اذن نہ ہو تو خواہشیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔تیرے حکم کے بغیر کوئی تہی دامن کا دامن نہیں بھر سکتا۔میرے خدا! میری دعا سن لے اور میرے بیٹے ایک دوسرے سے بڑھ کر آب و تاب میں ہوں۔آسمان پر چاند ستاروں کی طرح چمکیں ، اُن کی نسلوں سے فخر دیار اور اہلِ وقار پیدا ہوں۔میری تو التجا ہی ہے، قبول کرنے والا تو (ہی) ہے۔اے کاتب تقدیر! میرے بچوں کے لئے عمر و دولت ، ارادت وسعادت لکھ دے۔“ ( کہتی ہیں ) قادر کی قربانی سے چند دن پہلے میرے پرانے کاغذات سے یہ دعا نکلی۔خدا جانے کس جذ بے سے میں نے کی تھی جو قبول ہوئی۔چند ھوں کے لئے میرا دل کا نیا (کہ) یا اللہ ! میں نے تو ان کے لئے جانی قربانی مانگی ہے۔( سرفروشی مانگی ہے ) اندر سے (ایک) مامتا بولی (کہ) یا اللہ ! چھوٹی عمر میں ان سے یا مجھ سے قربانی نہ لینا اور میں دعا مانگنے میں لگی یا اللہ ! عمر دراز دینا۔مجھے کیا پتہ تھا ( کہ ) میری دعا تو قبول ہو چکی ہے اور جوانی میں (ہی) اللہ تعالیٰ ) یہ قربانی لینا چاہتا ہے اور خدا کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ جوانی میں میرا بچہ مجھ سے لے لے گا۔(بہر حال ) جتنی بڑی قربانی ہوگی اُتنا ہی بڑا اجر ہوگا۔“ کتاب ” مرزا غلام قادر احمد مصنفہ امتہ الباری ناصر صاحبہ صفحہ 223-224 شائع کردہ لجنہ اماءاللہ کراچی) اور بیٹے کی شہادت پر انہوں نے بڑا صبر دکھایا۔میں خود بھی اس کا گواہ ہوں۔بڑے صبر اور حوصلے سے یہ صدمہ برداشت کیا۔جب میں افسوس کرنے ان کے پاس گیا تو بڑے مسکرا کر انہوں نے قادر شہید کی خوبیوں کا ذکر کیا اور بڑا حوصلہ دکھایا۔مجھ سے خط و کتابت رکھتی تھیں اور جو آخری خط مجھے لکھا اُس میں بھی یہی فقرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی تقویٰ عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث ہوں اور آپ کی نسل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اللہ کرے کہ یہ دعا ان کی ساری اولاد میں اور سارے خاندان کے بارے میں پوری ہو۔جیسا کہ میں نے کہا آپ قادر شہید کی والدہ تھیں۔آپ کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے وقف ہوں۔دو بیٹے ہیں تو قادر شہید نے زندگی وقف کی اور پھر شہادت کا مقام بھی پایا۔ان کو قادرشہید سے بڑی محبت تھی۔ہر جگہ گھر میں مختلف جگہوں پر اس کی تصویر میں لگائی ہوئی تھیں۔صبر اور حوصلے کی میں نے بات کی ہے، جب قادر شہید کا جنازہ اُٹھا ہے تو اُس وقت بھی بجائے رونے دھونے کے ان کے یہ الفاظ تھے کہ