خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 520
خطبات مسر در جلد دہم 520 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء حضرت اتاں جان رہائش پذیر ہیں۔وہ مجھے بہت پیار اور شفقت سے ملتی ہیں۔نہایت لطف وکرم سے خوش آمدید بھی کہتی ہیں۔( حضرت اماں جان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیگم ہیں ) دن کا اول حصہ میں اُن کے ساتھ گزارتا ہوں۔اس سارے عرصے میں حضرت اماں جان مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے بیشمار واقعات اور حالات سناتی ہیں۔اس کے بعد جب خواب میں ہی پانچ چھ گھنٹے گزر گئے تو میں حضرت اماں جان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مکان پر پہنچ جاتا ہوں اور سارا دن وہاں ان کے ساتھ گزارتا ہوں۔اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی حیات مبارکہ کے بیشمار واقعات سنائے اور بعض مقدمات کے بارے میں فرمایا کہ جب یہ بات ہوئی تو خدا نے مجھے یہ الہام کیا اور یہ وحی کی۔اور پھر وحی کے نزول کا طریق اور سارا حال سنایا۔اور وحی کے الفاظ بھی بتائے۔پھر اس خواب میں ہی شام کو میں وہاں سے رخصت ہوا۔خواب میں یہ گفتگو الفاظ کے رنگ میں نہیں اور نہ ہی کوئی شکل نظر آئی بلکہ ایک احساس کی شکل میں ہوئی۔اسی طرح انہوں نے مجھے خواب میں دیکھا۔مجھے کہتے ہیں کہ میں فوت ہو گیا ہوں اور آپ نے میرا جنازہ پڑھا ہے۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ ہاں یہ سچ ہے۔جاؤ اور اب کھانا کھاؤ۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اپنی مہمانی سے نوازے۔جیسا کہ میں نے کہا ایک لمبا عرصہ یہاں یو کے میں رہے ہیں۔جماعتی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے۔پہلے تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے باوجود یکہ مختلف جگہوں پر ان کو اچھی ملازمتوں کی پیشکش ہوتی رہی ہے ان کو انگلستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی کہ یہیں انگلستان میں رہیں۔پڑھے لکھے بھی تھے۔اپنے کام میں بھی ماہر تھے لیکن پھر آپ کو 2000ء میں اجازت دے دی تھی لیکن باوجود اس کے کہ پڑھے لکھے تھے، اپنے فن میں بھی مہارت تھی لیکن کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں بہت پڑھا لکھا ہوں تا کہ تکبر پیدا نہ ہو۔میرا ان سے پہلا رابطہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی وفات پر جنازے سے پہلے ہوا۔جب میں پاکستان سے یہاں آیا ہوں تو ایک ایسا شخص جو نہایت عاجزی سے مختلف اعلانات کے مضمون بنا کر لا رہا تھا۔کیونکہ اُس وقت کام ہو رہے تھے اعلان شائع کرنے تھے ، ایم ٹی اے پر دینے تھے۔جب بھی ان کو کہا کہ اس فقرہ کو اس طرح کر دیں یا یہ یہ لفظ مناسب ہے تو بغیر کسی چوں چرا کے فوراً تبدیلی کر دیتے تھے۔کبھی یہ نہیں کہا کہ میں تمام عمر یہاں گزار چکا ہوں، پڑھا لکھا ہوں اور مجھے زبان میں بھی مہارت ہے اس لئے میرا مضمون ہی بہتر ہے۔جس طرح کہا گیا اُس طرح تبدیلی کر دی۔ان کی عاجزی بھی ہر ایک کے لئے ایک نمونہ تھی۔ان کا خدمت کا جذ بہ بھی ہر ایک کے لئے نمونہ تھا۔خلافت