خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد دہم 503 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء اگر دیر سے گھر تشریف لاتے تو کھانا یا دودھ خود ہی تناول فرما لیتے تھے اور گھر والوں کو نہیں جگاتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الاشربة باب اكرام الضيف وفضل ایثاره حدیث (5362 پس یہ اُن لوگوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم گھر کا کام کر لیں گے تو گناہ ہو جائے گا۔اگر لیٹ گھر آئے ہیں تو بیوی کا فرض ہے کہ ضرور اٹھ کے ہمیں کھانا گرم کر کے دے۔اگر نہیں کریں گے تو گھر والوں پر ہمارا رعب جاتا رہے گا۔جب تک ایسے لوگ بیویوں پر چیخم دھاڑ نہ کر لیں اُن کو چین نہیں آتا۔بعض لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں شکایات آتی ہیں کہ باہر جماعتی کام بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ان کا باہر تو بڑا اچھا سلوک ہوتا ہے لیکن گھروں میں بیویوں پر ایسی سختیاں ہیں کہ جن کائن کے بھی انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ انسان باہر کیا ہے اور اندر کیا ہے؟ یہ دو عملی ہے۔پھر بعض مردوں کو اُن کے قریبی ، بہنیں ہیں، مائیں ہیں، خراب کرنے والی ہوتی ہیں۔اگر کسی مہمان کے لئے کوئی مرد چائے بنا کر لے آیا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بیوی کا غلام ہو گیا یا یہ کیا ہو گیا؟ اس کی بیوی کیسی ہے کہ ہمارے بھائی سے یا بیٹے سے کام کروا رہی ہے۔بیچارہ بھائی ، بیچارہ بیٹا گھر کے کام کر رہا ہے اور یوں خاوندوں کا لڑکوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ پھر بیویوں پر سختیاں شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ وہ لوگ یہ کام کر کے بیچارے نہیں ہیں۔یہ تو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس پر عمل کر کے وہ ثواب کما رہے ہیں، اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بیچارے تو یہ اُس وقت ہوں گے جب بیویوں پر ظلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئیں گے۔جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ اعلیٰ اخلاق تم نے ایمان کا دعوی کر کے اپنائے ہیں؟ یہ اظہار کیا ہے تم نے؟ ایک طرف یہ دعویٰ اور ایک طرف یہ اظہار؟ پس ایسے مردوں کو بھی اپنی فکر کرنی چاہئے۔آپ کا بچوں سے محبت اور شفقت کا کیا نمونہ ہے؟ اس بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ اپنے بچوں اور ساتھ رہنے والے بچوں کے لئے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی باب ذکر اسامة بن زيد حدیث 3735) بچوں کو کبھی سزا نہیں دی، ہمیشہ محبت اور دعا کے ذریعہ سے تربیت کی۔حضرت ابوہریرۃ روایت کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی پہلا پھل آتا تو پھلوں میں برکت کی دعا کرتے اور پھر پہلے وہ پھل مجلس میں موجو دسب سے چھوٹے بچے کو عنایت فرماتے۔(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدينة ودعاء النبي۔۔۔حديث 3334)