خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 499

خطبات مسر در جلد دہم 499 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء اللہ تعالیٰ نے جو اعضاء دیئے ہیں، کان، آنکھ، زبان، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ ان سے نیکی کے کام کرنا بھی عبادت بن جاتا ہے۔کانوں سے نیکی کی باتیں سننا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بناتا ہے۔لیکن لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں سننا گناہ ہے۔لیکن اگر کوئی اپنے کان اس لئے بند کر لے اور مستقل بند رکھے کہ میں برائی کی باتیں نہ سنوں تو یہ بھی اُن کا صحیح استعمال نہیں ہے بلکہ ایک طرح کی گستاخی بن جاتی ہے۔اسی طرح آنکھ ہے، زبان ہے ، ہاتھ ہیں اور باقی اعضاء ہیں اُن کے استعمال کا بھی یہی حال ہے۔آجکل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ سحری کھاؤ اور افطاری کرو۔آپ نے اپنے عمل سے ہمیں یہ کر کے دکھایا کہ اگر کوئی سوائے مجبوری کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نہیں چلتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔بعض مجبوریاں ہو جاتی ہیں جب آدمی کو فوری طور پر افطاری بھی نہیں ملتی یا سحری نہیں کھائی جاسکتی۔اور اگر پھر کوئی صحت کے باوجود روزہ نہیں رکھتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔گو یا خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا جو کسی بھی صورت میں مہیا ہیں، خدا تعالیٰ کے حکم سے فائدہ اُٹھانا اور جائز طریق سے فائدہ اُٹھانا نیکی بن جاتی ہے اور اُن کا ناجائز استعمال یا بے وقت استعمال گناہ ہے۔اور یہی آپ نے ہمیں اپنے عمل سے کر کے دکھا یا۔آپ کا حمل بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔شراب کی حرمت سے پہلے ایک صحابی نے نشہ میں آپ کو بہت کچھ کہہ دیا۔آپ خاموشی سے سنتے رہے۔اُسے کچھ نہیں کہا۔(ماخوذاز صحیح البخاری کتاب المساقاة باب بيع الحطب والكلأ حديث 2375) جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت بھی عطا فرما دی۔مدینہ آگئے ، حکومت بھی قائم ہوگئی تو اس وقت بھی اس تحمل کی اعلیٰ مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کے پاس چار پیسے آ جائیں یا تھوڑا سا عہدہ مل جائے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا۔طبیعت کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو ناک منہ چڑھانے لگ جاتا ہے۔لیکن آپ کا رویہ کیا ہوتا تھا ؟ ایک مرتبہ ایک یہودی آیا اور آ کر آپ سے بحث شروع کر دی اور دوران بحث بار باراے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ کر بات کرتا تھا۔وہ تو صرف اے محمد ہی کہتا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب آپ نہ صرف مدینہ کے حاکم تھے بلکہ اردگر داور دور تک آپ کی بادشاہت اور حکومت پھیل چکی تھی۔صحابہ کو یہودی کا یہ طرز گفتگو پسند نہیں آیا کیونکہ صحابہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔اور جو غیر مسلم تھے وہ آپ کو آپ کی کنیت ابوالقاسم سے پکارتے تھے۔تو یہودی کے اس طرح بار بار ”اے محمد“ کہنے پر صحابہ نے اُسے غصہ سے ٹو کا کہ اگر رسول اللہ نہیں کہ