خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد و هم 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائده: 28) - گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تختلف نہیں ہوتا۔“ (کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتا)۔جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: 32)۔پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لیے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے، تاکہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 68 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پھر ایک اور نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : بہت دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔فرمایا ” اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقوی وطہارت اختیار کر لے۔پھر فرمایا کہ میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔فرمایا ”جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اُس کے شاملِ حال نہیں ہو سکتی۔فرمایا تقوی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت و انجیل کی تعلیمات کا۔قرآنِ کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔“ ( یعنی اس لفظ تقوی نے۔) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 200 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) آپ نے ایک زمانے میں خاص طور پر جماعت کو یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 202) (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 6 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) فرمایا کہ : " تو بہ انسان کے واسطے کوئی زائد اور بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنور جاتے ہیں اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان دونوں میں آرام اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 202)۔اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں بھی آرام و آسائش کے سامان عطا فرما اور آنے والے جہان میں بھی آرام