خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 485
خطبات مسر در جلد دہم 485 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء اور قریبیوں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔اگر جائزے لیں تو ہم میں عموماً وہ معیار نظر نہیں آتے۔پس ایک طرف تو ہم دعاؤں کی قبولیت کے نشان مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور پھر گواہی کے وقت راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح اپنے قریبیوں کو مجرم ہونے سے بچالیں۔بلکہ بعض دفعہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اور ہمارے قریبی بچ جائیں اور دوسرے کو کسی طرح ملزم بنا دیا جائے۔بعض دفعہ عہد یداروں کے متعلق یہ شکایات بھی آ جاتی ہیں، مجھے لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آپ نے توجہ دلائی ہے کہ جماعت میں فلاں فلاں عہدیدار کے متعلق یہ شکایت ہے یا بعض دفعہ جلسوں وغیرہ میں بعض کمزوریوں کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ عہد یدار یا متعلقہ شعبہ جو ہے یا مجموعی طور پر جس کو بھی کہا جائے اپنی اصلاح کرے، اس بات کی تحقیق شروع کر دیتے ہیں کہ یہ شکایت کس نے کی ہے؟ حالانکہ اُن کا یہ کوئی مقصد نہیں ہے۔تمہیں تو چاہئے تھا کہ اس پر غور نہ کرو کہ شکایت کس نے کی ہے؟ تمہارا اس سے کوئی کام نہیں۔اگر یہ کمزوری ہے تو دور کرو اور اگر نہیں ہے تو پھر بھی استغفار کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ناکردہ گناہوں کی سزا سے بھی بچائے اور پھر جو صحیح رپورٹ ہے وہ دے دی جائے کہ اصل حقیقت اس طرح ہے۔باقی یہ میرا کام ہے کہ شکایت کرنے والے کو کس طرح جواب دینا ہے یا جواب دوں کہ نہ دوں؟ اگر بغیر نام کے کوئی شکایت کرتا ہے تو وہ تو ویسے بھی قابل توجہ نہیں ہوتی۔اُس کی جماعت میں کوئی پذیرائی نہیں ہوتی۔بہر حال یہ بات عہد یداروں سے اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کے پورا کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے سپر دجو یہ کام کیا ہے اُس کو صحیح طرح نبھائیں اور اسی طرح سچی گواہی کا تقاضا ہے کہ وہ اصلاح کی طرف توجہ دیا کرے، نہ کہ شکایت کنندہ کی تلاش کرنے کی طرف۔اگر شکایت کرنے والے کا نام میں نے بتا نا ہوگا تو خود ہی بتا دوں گا اور اکثر بتا بھی دیا کرتا ہوں۔لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس صورت میں پھر بعض دفعہ شکایت کرنے والے پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ بھی تقویٰ سے دور بات ہے۔یہ پھر امانتوں اور عہدوں کی صحیح ادائیگی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر ، احکامات پر صحیح عمل نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہے تو ہر معاملے میں، ہر سطح پر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔صرف عہد یداروں تک ہی میری بات محدود نہیں ہے ہر احمدی کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے ہم تمام احکامات کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کریں۔اپنے ایمان کو کامل کرنے کی کوشش کریں۔اپنے اندر عاجزی پیدا کریں۔اپنے اندر کے فخر اور تکبر