خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 459

خطبات مسرور جلد و هم 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء نائب ناظر ہیں۔تیسرے نے بھی کچھ عرصہ وقف کیا تھا۔ان کا عارضی وقف تھا، افریقہ میں کیا پھر یہاں آگئے۔فضل احمد طاہر یہیں یو کے جماعت کے سیکرٹری تعلیم ہیں۔تو یہ ان کے تین بیٹے ہیں۔بیٹیاں بھی ہیں ان کے خاوند بھی سارے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے جماعتی نظام سے منسلک ہیں۔پھر ان میں یہ خوبی بھی تھی کہ اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو اس طرح تبلیغ کرتے تھے کہ جو بھی رسالے ان کے آتے تھے یا اختلافی مسائل کے بارے میں جو بھی لٹریچر ہوتا تھا، وہ سیالکوٹ یا جہاں بھی وہ ہوتے تھے پوسٹ کرتے رہتے تھے۔اور سب رشتہ داروں کے ایڈریسز ان کو یاد تھے۔اس طرح الفضل یا کوئی رسالے بھیجتے رہتے تھے۔دفتر والوں کے ساتھ بڑا حسنِ سلوک تھا۔ان کے ایک کارکن لکھتے ہیں کہ اول تو سائیکل پر دفتر آیا کرتے تھے لیکن جب بہت بیمار ہو گئے تو میں نے ہی کہا تھا کہ ان کے لئے گاڑی جانی چاہئے ، اس سے پہلے بھی شاید استعمال ہوتی تھی۔بہر حال ایک دفعہ دفتر کے کارکن نے ان کو لینے کے لئے گاڑی بھجوانے میں دیر کر دی تو بجائے اس کے کہ کچھ کہتے ، انداز ان کا اپنا ہی تھا، بڑی نرم گفتاری سے نصیحت کیا کرتے تھے۔کارکن کہتے ہیں کہ مجھے بجائے کچھ کہنے کے کہ گاڑی لیٹ کیوں آئی ، ایک لفافے میں تھوڑے سے بادام ڈال کر بھیج دیئے کہ آپ کی یادداشت کے لئے ہیں۔اسی طرح ان کی بیٹی بھی کہتی ہیں، گھر میں بھی بجائے اس کے کہ بہت زیادہ وعظ و نصیحت کریں ، ڈانٹ ڈپٹ کریں، اپنا عملی نمونہ پیش کیا کرتے تھے جسے دیکھ کے ہم خود ہی اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے تھے یا پھر بعض دفعہ ایسے رنگ میں کوئی کہانی سنا دیتے تھے جس سے اصلاح کی توجہ پیدا ہو جاتی تھی۔ان کی ایک بیٹی کہتی ہیں کہ آخری بیماری میں ابھی چند دن پہلے کہتے ہیں کہ شعر نازل ہو رہے ہیں لکھو۔اور اللہ تعالیٰ کے مناجات وہ شعر یہ تھے۔یہ ان کے تقریباً آخری، بستر مرگ کے شعر کہہ لیں۔خدمت دین کی خاطر میرے مولیٰ خدمت دین کی خاطر مجھے قرباں کر دے وقت رخصت میرے واسطے وقت راحت وقت رخصت میرے واسطے آساں کر رخصتی کو میرے واسطے شاداں کر دے پھر یہ خوبی تھی کہ ہمیشہ شکر کے جذبات کے ساتھ حمدوثنا کیا کرتے تھے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان کا وقف قبول کیا تو انہیں یہ نصیحت فرمائی تھی اور ہر واقف زندگی کو یہ نصیحت یاد رکھنی چاہئے کہ جماعت کے کاموں کی اس طرح فکر کرنا جیسے ایک ماں اپنے بچے کی فکر کرتی ہے۔اور پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نصیحت کو ہمیشہ پلے باندھے رکھا اور ہمیشہ باوجود اس کے کہ کوئی بیماری ہواس