خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 448

خطبات مسر در جلد دہم 448 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء کا تذکرہ کیا۔یہاں بھی جلسے پر کئی سالوں سے آ رہے تھے اور جن کے گھر ٹھہر تے تھے اُن کی بچیوں نے کہا کہ ہمارے گھر بہت سارے مہمان ہوتے تھے تو ہم نے دیکھا کہ جلسے کے مہمان کی بجائے خود اُن کے میز بان بن جایا کرتے تھے۔بلکہ عاجزی یہاں تک تھی کہ جب اپنے بوٹ پالش کرنے لگے ہیں تو ساتھ مہمانوں کے بھی بوٹ پالش کر دیا کرتے تھے۔ایک جلسے پر آئے ہیں جب بارشیں زیادہ تھیں تو کہتے ہیں کہ گھر والوں نے کیچڑ سے لدے ہوئے جولانگ بوٹ پہنے ہوئے تھے اُنہوں نے آ کر انہیں اتار دیا۔صبح اُٹھ کر دیکھا تو ساروں کے بوٹ بڑے سلیقے سے صاف ستھرے ایک لائن میں پڑے تھے۔انہوں نے رات کو جلسے کے سارے مہمانوں کے بوٹ، جو بھی ان کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے ، مٹی اتار کے صاف کر کے، پالش کر کے، جو دھونے والے تھے دھودھا کے رکھے ہوئے تھے۔انتہائی عاجز طبیعت تھی۔اولاد توان کی کوئی نہیں تھی لیکن اہلیہ بھی کہتی ہیں کہ اس طرح انہوں نے میرا خیال رکھا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ شاید میرے ماں باپ نے مجھے زندگی میں اتنا آرام نہیں دیا اور پیار نہیں دیا جتنا اس شخص نے دیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور یہ تختی کے دن بھی اللہ تعالیٰ جلد سے جلد پاکستان میں ختم کرے۔جیسا کہ میں نے کہا ہمیں بہت زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہئے اور خاص طور پر اس رمضان میں اس لحاظ سے بھی پاکستانی اور دنیا میں ہر جگہ احمدیوں کو خاص طور پر بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ یہ جو سختیوں کے دن ہیں یہ جلدی بدلے۔دوسرا جنازہ مکرم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کا ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے بیٹے تھے۔چھیاسی سال کی عمر میں چودہ پندرہ جولائی کی درمیانی شب کو ان کی وفات ہوئی ہے۔حضرت ام ناصر کے بطن سے یہ پیدا ہوئے تھے اور بڑے نرمی سے بات کرنے والے، غریبوں سے حسن سلوک کرنے والے تھے۔انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔اُس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے سنڈیکیٹ جو سندھ میں زمینوں کا اپنا ادارہ تھا وہاں ان کو بھیج دیا تھا۔تو اُس کے بعد پھر وہی کام کرتے تھے۔جب یہ بند ہو گیا تو پھر یہ اپنا ہی کاروبار کرتے رہے۔خلافت سے بھی ان کا بڑا تعلق تھا۔مجھے باقاعدگی سے خط بھی لکھا کرتے تھے اور بڑے اخلاص و وفا کا تعلق انہوں نے ہمیشہ ظاہر کیا۔میرے ماموں تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اب نماز کے بعد نماز جنازہ ادا ہوگا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 10 اگست تا 16 اگست 2012 جلد 19 شماره 32 صفحه 5 تا9)