خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 447
خطبات مسرور جلد دہم 447 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء سے شروع ہو رہا ہے۔اس رمضان سے بھی ہر احمدی کو خوب فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اپنی دعاؤں اور عبادتوں کو بھی انتہا تک لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ دن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے اور کھینچنے کے دن ہیں۔ان سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بھی عطا فرمائے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے بڑھ کر اپنے اوپر نازل ہوتا ہوا دیکھیں۔اللہ کرے کہ اس طرح ہی ہو۔اب جمعہ کی نماز کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو ہمارے ایک شہید چوہدری نعیم احمد گوندل صاحب کا ہے جن کو کل شہید کیا گیا ہے جو چو ہدری عبدالواحد صاحب اورنگی ٹاؤن ضلع کراچی کے بیٹے تھے۔ان کی کل ہی شہادت ہوئی ہے۔انا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے دادا مکرم خورشید عالم صاحب مرحوم تھے۔شہید مرحوم 1961ء میں پیدا ہوئے۔چک 99 شمالی سرگودھا کے تھے۔پھر 1971ء میں گوندل فارم کوٹری میں شفٹ ہو گئے، پھر اورنگی ٹاؤن میں آگئے۔1914ء میں ان کی دادی نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور دادا نے پھر بعد میں بیعت کی۔شہید مرحوم نے ایم اے اکنامکس اور ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی۔سٹیٹ بنک آف پاکستان میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہے تھے۔ان کا شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ یہ 19 جولائی کی صبح کو سوا آٹھ بجے حسب معمول دفتر سٹیٹ بینک جانے کیلئے گھر سے نکلے۔آپ عموماً گھر کے سامنے ایک تنگ گلی سے گزر کر بڑی سڑک پر جاتے تھے جہاں سے آپ کو بینک کی گاڑی آکر دفتر لے جایا کرتی تھی۔موصوف جب گلی میں داخل ہوئے ہیں تو سامنے سے دو نو جوانوں نے آکر کنپٹی پر فائر کیا ہے۔گولی دائیں جانب سے لگی اور بائیں سے نکل گئی جس سے نعیم احمد گوندل صاحب موقع پر شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔گیارہ سال سے شہید مرحوم صدر حلقہ اورنگی ٹاؤن کی خدمت پر مامور تھے۔اس سے قبل چارسال بطور قائد مجلس اورنگی ٹاؤن اور اس سے قبل انہوں نے زعیم حلقہ ، سیکرٹری وقف نو ، مربی اطفال اور مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمات سرانجام دیں۔نہایت خوش اخلاق ، ملنسار، حلیم الطبع تھے۔اہلِ علاقہ بھی ان کے بارہ میں یہی رائے رکھتے تھے۔کچھ عرصہ سے اورنگی ٹاؤن کے حالات خراب تھے اور مخالفانہ وال چاکنگ وغیرہ کا سلسلہ جاری تھا لیکن ہمیشہ آپ بڑی بہادری سے سب چیزوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔دلیر اور بہادر شخص تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی بھی تھے۔کچھ غیر احمدی تعزیت کے لئے آئے تو انہوں نے بھی آپ کے اوصاف