خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد دہم 444 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء ملاقاتیں کروائیں۔دنیا کو پرامن بنانے کے لئے ان بڑے ملکوں کے سیاستدانوں کو سمجھانا بھی ضروری ہے۔اسی طرح پڑھے لکھے طبقے کو بھی سمجھانا ضروری ہے۔اس مرتبہ کینیڈا میں ایسی دو تقاریب پیدا ہو گئیں۔ایک تو ریسپشن ہوئی یا یہ کہہ لیں کہ وہاں انہوں نے طاہر بال نیا بنایا جس کا افتتاح تھا جس میں مقامی کینیڈین کی خاصی تعداد تھی ، سیاستدانوں کی بھی اور دوسرے پڑھے لکھے لوگوں کی بھی، جنہیں اسلامی تعلیم کی روشنی میں کچھ کہنے کا موقع ملا۔بعض مہمانوں کے جو تبصرے مجھ تک پہنچے ہیں وہ بڑے مثبت ہیں۔اللہ کرے کہ یہ مثبت تبصرے اُن کے ذہنوں کو بدلنے والے اور اُن کی پالیسیز کو بدلنے والے بھی ہوں۔اسی طاہر بال کے بارے میں یہ بھی بتادوں کہ پہلے ایک حکومتی ادارے نے جو بعض چیریٹی اداروں اور این جی اوز کی مدد کرتے ہیں، تقریباً دو اڑھائی ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا کہ اس کی تعمیر میں کچھ حصہ جماعت ڈالے اور کچھ یہ دیں گے۔جب مجھے پتہ لگا تو میں نے کہا بہتر یہ ہے کہ شکریہ کے ساتھ ان کی رقم واپس کر دی جائے اور جماعت اگر بناسکتی ہے تو خود بنائے ،تو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جماعت کو توفیق دی اور کئی ملین ڈالر خرچ کر کے جماعت نے یہ ہال اور اس کے ساتھ جامعہ احمدیہ کی عمارت بنائی ہے۔باوجود اس کے کہ کینیڈا کی جماعت کی مساجد کے بھی بڑے منصوبے ہیں اور کئی کئی ملین ڈالر کے منصوبے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے اور قربانی کرنے والی جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے۔جامعہ کے لئے جو ابھی تک عمارت استعمال ہو رہی تھی، گو وہ ایک خریدی ہوئی عمارت تھی لیکن وہ چھوٹی پڑ گئی تھی۔اب اچھے کلاس رومز، دفاتر وغیرہ اس کے ساتھ بن گئے ہیں اور پیس ولیج (Peace Village) میں ہی یہ جامعہ ہے جہاں کنٹرول وغیرہ بھی نسبتاً آسان ہے۔اس سال انشاء اللہ وہاں جامعہ شروع ہو جائے گا۔پس ان ترقیات کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل بھر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فر دکو حقیقی شکر گزار اور حمد کرنے والا بنائے۔جماعت کے تعلقات کی وجہ سے وزیر اعلیٰ اونٹاریو (Ontario) نے بڑا زور دے کر ایک ریسیپشن کا انتظام کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے وہاں ہر لیول پر اچھے تعلقات ہیں۔جب میرے کینیڈا آنے کا پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ وہ میری ریسیپشن کرنا چاہتے ہیں اور میرے اس وجہ سے انکار پر کہ وقت تھوڑا ہے اور شہر میں جہاں وزیر اعلیٰ کا دفتر ہے، سیکرٹیریٹ ہے یا جہاں بھی انتظام کرنا تھا انہوں نے اپنے گیسٹ ہاؤسز وغیرہ میں یا وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تو وہاں آنا جانا بہت مشکل ہو جائے گا، وقت