خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 440
خطبات مسرور جلد دہم 440 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء اس فنکشن سے ایک دن پہلے سی این این (CNN) کے نمائندہ نے میرا انٹرو یولیا تھا۔وہ اور باتوں کے علاوہ کہنے لگا کہ تمہارے لئے یہ بڑا اہم موقع پیدا ہورہا ہے تو کیسا محسوس کر رہے ہو۔میں نے اُسے کہا اور ایک دم میرے منہ سے یہی نکلا کہ میرے لئے تو یہ کوئی ایسا زیادہ اہم موقع نہیں ہے۔اُس کے الفاظ کچھ ایسے تھے جیسے کوئی بڑی ایکسائٹمنٹ (Excitement) ہوگی یا کچھ ہوگا۔تو بہر حال میں نے کہا کہ کوئی ایسا موقع نہیں ہے جس کی وجہ سے میں ضرورت سے زیادہ ایکسائٹڈ (Excited) ہو جاؤں۔اس دورے پر جو امریکہ میں آیا ہوں میرا اصل مقصد تو اپنے لوگوں سے ملنا اور اُن کی دینی ، اخلاقی ، روحانی حالت کی بہتری کی طرف انہیں توجہ دلانا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا کہ تمہاری یہ بات جو ہے یہ تو امریکی سیاستدانوں کے لئے بڑی دھچکے والی بات ہے کہ تم اُسے کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔اور پھر ہنس کے کہنے لگا کہ میں تمہاری یہ بات بہر حال ان سیاستدانوں کو نہیں بتاؤں گا۔بہر حال ایک دنیا دار کی نظر میں تو اس کی کوئی اہمیت ہوگی لیکن ہمارے نزدیک نہ ہے اور نہ ہونی چاہئے۔ہاں ہم اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کا شکریہ ضرور ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہماری باتیں سنیں۔اسی طرح اس فنکشن سے پہلے جب مختلف ملاقاتیں ہو رہی تھیں ، وہاں کے فوجوں میں جو مختلف فرقوں کے چیپلین (Chaplain) ہیں وہ بھی ہمارے ایک احمدی کے تعلق کی وجہ سے مجھے ملنے آئے۔چار پانچ آدمی تھے تو اُن میں سے ایک نے مجھے کہا کہ کل تم نے کانگریس میں جا کر کانگریس مین اور سینیٹر سے خطاب کرنا ہے تو نروس (Nervous) تو نہیں ہو رہے ہو گے۔میں نے اُسے کہا کہ بالکل نہیں۔میں نے تو قرآن اور اسلام کی باتیں کرنی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی نروس ہونے والی بات ہے اور اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔مختلف جگہوں پر لیکچر ز دینے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔پھر خود ہی کہنے لگا کہ ہمیں اگر کوئی ایسا موقع آئے تو بڑی دقت ہوتی ہے اور بعض دفعہ نروس ہو جاتے ہیں حالانکہ ہم بہت زیادہ لیکچر دینے والے ہیں۔یہ اس لئے کہ یہ لوگ بیشک چھپن تو ہیں، یا مذہبی لیڈر سمجھ لیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں لیکن دنیا داری ان پر غالب ہے اور کیپیٹل ہل کا جو نام ہے وہی اُن کے لئے ایک ہوا ہے چاہے وہ امریکن ہی ہوں۔لیکن خدائے واحد کو ماننے والے کے لئے خدا ہی سب کچھ ہے اور ہونا چاہئے۔جماعت پر اعتراض کرنے والے بھی اسی طرح دنیا داروں سے متاثر ہوتے ہیں جس طرح یہ لوگ ہو رہے ہیں ان کی بھی میٹنگیں ہوتی ہوں گی۔بعض جاکے ملتے بھی ہوں گے اور ان لوگوں کو متاثر ہونے کی وجہ سے کبھی یہ توفیق نہیں ملی کہ اسلام کا پیغام پہنچا ئیں، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں،