خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 439

خطبات مسرور جلد دہم 439 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء ہمارےخلاف، جماعت کے خلاف اُچھالنے کی کوشش کی تاکہ احمدیوں کے خلاف مزید بھڑ کا یا جائے لیکن بہر حال ان کو کوئی ایسی خاص پذیرائی تو نہیں ملی۔ان کا یہ موقف تھا کہ میں احمدیوں کے لئے امریکی حکومت سے کوئی مدد مانگنے گیا ہوں یا نعوذ باللہ ملک کے خلاف، پاکستان کے خلاف کوئی سازش کرنے گیا ہوں۔یہ تو جو کچھ میں نے وہاں کہا اُسے سن کر ، اگر ان کی انصاف کی آنکھ ہو، جو نہیں ہے تو خود ہی انصاف سے فیصلہ کر لیں گے اور ہر عقلمند فیصلہ کر سکتا ہے کہ میں لینے گیا تھا یا انہیں کچھ دینے اور بتانے گیا تھا۔ہمارا انحصار خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔جماعت کی ترقی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے، کسی حکومت کی مدد سے نہیں۔اور نہ کبھی ہمارے دل میں یہ خیال آیا ہے۔ملک کے خلاف سازش کا سوال ہے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ وطن سے محبت کرنے والے ہیں جن کا نہ پاکستان کے بنانے میں کوئی کردار ہے، نہ اس کے قائم رکھنے میں کوئی کردار ہے، بلکہ یہ لوگ تو دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں اور تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔جہاں تک لینے کی بات ہے تو یہ بھی بتادوں کہ 2008 ء میں جو بلی کے جلسہ پر جب میں وہاں گیا تھا تو وہاں ایک ریسپشن (Reception) بھی تھی جس میں مقامی لوگ آئے ہوئے تھے لیکن اس میں صرف ایک سینیٹر تھوڑی دیر کے لئے آئے۔وہ پانچ منٹ بیٹھے اور چلے گئے اور وہ بھی فنکشن سے پہلے۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے کوئی سینیٹر (Senator) یا کانگریس مین (Congressman) وغیرہ نہیں تھے۔اور اُن سے دومنٹ بات ہوئی تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ یہ انداز مجھے ایسے لگا جیسے یہ کہہ رہے ہوں کہ کیا مانگنے آئے ہو؟ کیونکہ پاکستانیوں کے متعلق اُن کا شاید یہی تصور ہے کہ مانگنے آتے ہیں۔تو اُسے میں نے کہا کہ میں تمہارے سے کچھ لینے نہیں آیا۔اُس وقت بھی میں نے اُس کو کہا تھا کہ تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ اگر تم دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہو تو تمہیں کیا طریقے اختیار کرنے چاہئیں اور کس طرح اپنی پالیسیز بنانی چاہئیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا یہ واحد سینیٹر تھے جو آئے۔چند منٹ کی گفتگو مجھ سے کی اور چلے گئے۔لیکن اس خطاب یا فنکشن کا جہاں تک تعلق ہے جو کیپیٹل ہل میں ہوا اُس کی اہمیت میرے لئے صرف اتنی تھی کہ اگر یہ لیڈرا کٹھے ہو جائیں اور پڑھا لکھا طبقہ وہاں آ جائے تو ان کو اسلام کی تعلیم کے کچھ پہلو بتائے جائیں اور دنیا کے امن کے لئے شاید یہ سن کے پھر دنیا کے امن کے لئے ان کو صحیح قدم اُٹھانے کا خیال پیدا ہو جائے۔