خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد دہم 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء بڑھتے چلے جائیں گے اور نہ صرف یہ انعامات اور احسانات اس دنیا میں تم پر ہوتے رہیں گے بلکہ اُس دنیا میں بھی یہ انعامات اور احسانات تم پر ہوں گے اور حقیقی حمد کے نہ ختم ہونے والے پھل تم کھاتے چلے جاؤ گے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ اس بات کو بھی یا درکھو کہ اس دنیا میں جو تعریف اللہ تعالیٰ کے غیر کی یا اُس کی مخلوق کی تم کرتے ہو وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف لے جاتی ہے اور لے جانے والی ہونی چاہئے۔اور ایک حقیقی مومن کو اس بات کا ادراک اور فہم ہونا چاہئے کہ تمام تعریف کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔کیونکہ وہ تمام قدرتوں کا مالک ہے۔زمین و آسمان اور اس کی ہر چیز پیدا کرنے والا خدا ہے، چاہے وہ جاندار مخلوق ہے یا غیر جاندار مخلوق۔نباتات ہیں، حیوانات ہیں، انسان ہے، سب کا پیدا کرنے والا اور ان میں وہ خصوصیات پیدا کرنے والا خدا تعالیٰ ہے جس سے ایک انسان فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔پس کسی بھی چیز کی اور کسی بھی انسان کی اپنی ذاتی اہمیت کوئی نہیں جب تک کہ خدا تعالیٰ اُس میں وہ خصوصیت یا طاقت پیدا نہ کرے جو انسان کو فائدہ پہنچانے والی ہے۔اس زمین پر بھی بیشمار چیزیں جو ہم دیکھتے ہیں اُن سے فائدہ پہنچانے کی خاصیت خدا تعالیٰ نے ہی اُن میں رکھی ہے اور انسان اُن سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے کہ یہ فائدہ حاصل کیا جائے۔پس جب ہر ایک کو ہر خصوصیت خدا تعالیٰ کی مرضی اور اُس کے ارادے اور اُس کے قانونِ قدرت سے مل رہی ہے تو پھر غیر اللہ سے فائدہ اُٹھانے کے بعد حقیقی شکر گزاری بھی خدا تعالی کی ہونی چاہئے اور حمد اُسی کی کرنی چاہئے کہ اُس نے یہ اسباب اور سامان پیدا فرمائے جس کی وجہ سے اللہ کے بندے نے فائدہ اُٹھایا، ایک مومن نے فائدہ اُٹھایا۔ہاں یہ بھی حکم ہے کہ شکر گزاری بندوں کی بھی کرنی چاہئے۔اگر تم کسی دوسرے انسان سے فائدہ اُٹھاتے ہو تو اُس کے بھی شکر گزار بنو۔اگر بندوں کی شکر گزاری اس نیت سے کی جائے کہ خدا تعالیٰ نے اسے میرے فائدے کے لئے بھیجا ہے، اُسے مجھے فائدہ پہنچانے کا ایک ذریعہ بنایا ہے ، میری بہتری کا ذریعہ بنایا ہے تو یہ بھی خدا تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔اور یہ شکر گزاری اُس رب العالمین کی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے جس نے ہمیں بھی پیدا کیا اور ہماری پرورش کے سامان کئے اور باقی چیزوں کے لئے بھی۔پھر کسی بندے کو انسان رب نہیں بناتا۔یہ نہیں سمجھتا کہ اس بندے کی وجہ سے میرے یہ کام ہوئے ہیں یا مجھے سب کچھ ملا ہے۔پھر حقیقی رب اللہ تعالیٰ ہوتا ہے جو رب العالمین ہے۔پس یہ ایک مومن کی شان ہے کہ جب وہ بندوں کے احسانوں کا بھی شکر گزار ہوتا ہے تو احسان کا منبع خدا تعالیٰ کی ذات کو سمجھتا ہے بلکہ جب کسی کی طرف سے نیک سلوک دیکھتا ہے تو اس نیک سلوک کی وجہ